Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / نیوکلیئرمذاکرات میں توسیع کسی کے بھی مفاد میں نہیں

نیوکلیئرمذاکرات میں توسیع کسی کے بھی مفاد میں نہیں

میونخ۔8فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ ایران جواد ظریف نے آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اُن کے ملک کے مشتبہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں سخت لب و لہجہ کے مذاکرات میں نئی توسیع کے امکان کو مسترد کردیا جب کہ اُن کی ملاقات وزیر خارجہ امریکہ جان کیری سے تازہ مذاکرات کے بارے میں ہوچکی تھی۔ جرمنی کے جنوبی شہر میونخ میں عا

میونخ۔8فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ ایران جواد ظریف نے آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اُن کے ملک کے مشتبہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں سخت لب و لہجہ کے مذاکرات میں نئی توسیع کے امکان کو مسترد کردیا جب کہ اُن کی ملاقات وزیر خارجہ امریکہ جان کیری سے تازہ مذاکرات کے بارے میں ہوچکی تھی۔ جرمنی کے جنوبی شہر میونخ میں عالمی صیانتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ ان کے خیال میں نیوکلیئر مذاکرات میں نئی توسیع کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ توسیع نہ تو ضروری ہے اور نہ کارآمد ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نقطہ نظر سے تازہ توسیع کارآمد نہیں ہوگی ۔ اس سے ساتھیوں کے لئے بھی کوئی سازگار ماحول پیدا نہیں ہوگا ۔ اُن کی پوری توانائی اور مرکز توجہ اپنے ساتھیوں پر مرکوز ہے اور انہیں یقین ہے کہ شراکت داروں کے ساتھ اُن کی بات چیت کا مرکز توجہ جلد از جلد معاہدہ کی قطعیت ہے ۔ جان کیری اور جواد ظریف نے آج دوسرے مرحلے کے مذاکرات منعقد کئے جو 90منٹ طویل تھے ۔ انہوں نے سیاسی معاہدہ کیلئے موجودہ اختلافات دور کرنے کی کوشش کی تاکہ 31مارچ کی قطعی آخری مہلت سے پہلے ایران کے ایٹمی عزائم پر قابو پانے کیلئے جامع معاہدہ طئے پاجائے ۔ سخت لب و لہجہ کے مذاکرات کی بعض تفصیلات کا افشاء ہوچکا ہے لیکن عالمی طاقتیں کوشش کررہی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے راستے کو ایران کیلئے قطع کردیا جائے ۔

اس کے بدلے میں وہ ایران پر عائد تحدیدات میں بتدریج نرمی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔ جواد ظریف نے برسرعام معاہدہ کی تفصیلات پر اظہار خیال سے انکار کردیا تاہم کہا کہ ہم انتہائی سنجیدہ مذاکرات میں مصروف ہیں ۔ ہمارے خیال میں دنیا کو یہ دکھانا کہ ہمارا یہ پروگرام خاص طور پر پُرامن ہے ‘ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اگر معاہدہ طئے نہ ہوا تو دنیا ختم ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں اور ہمیں ناکامی بھی ہوتی ہے ۔ ہم اس مسئلہ کے نظریہ کو بتدریج تحدیدات کی برخواستگی سے مربوط نہیں کرنا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2013ء کے عبوری معاہدہ میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جس کے تحت اُن اقدامات کو شائع کردیا جائے جو مرحلہ بہ مرحلہ طریقہ کار کاحصہ ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران طویل عرصہ سے ان الزامات کی تردید کرتا آرہا ہے کہ اس کا مقصد ایٹم بم تیار کرنا ہے ‘ اس کی دلیل ہے کہ اس کا نیوکلیئرپروگرام صرف شہری برقی توانائی کی ضروریات کی تکمیل کیلئے ہے ‘ لیکن معاہدہ ہونے کے امکانات پر شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ کیونکہ دو قطعی آخری مہلتیں پہلے ہی گذر چکی ہیں ۔ جواد ظریف نے کہا کہ عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ اوآخر مارچ تک جامع معاہدہ ہوجائے اور ٹیکنیکی تفصیلات کو ختم جون تک قطعیت دی جائے ۔

جواد ظریف سے جان کیری کے نیوکلیئرمذاکرات
سیاست معاہدہ کو قطعیت دینے کی ناکام کوشش ‘ معاہدہ پر شکوک و شبہات کے سائے
میونخ۔8فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے آج اچانک وزیرخارجہ ایران سے ملاقات کی تاکہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں میونخ میں منعقدہ صیانتی کانفرنس کے دوران علحدہ طور پر تبادلہ خیال کئے جاسکے ۔ جان کیری وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف سے جرمنی کے جنوبی شہر میں قیام کے دوران دوسری مرتبہ بغلگیر ہوگئے جب کہ عالمی طاقتیں ایران کے ایٹمنی عزائم کو قابو میں کرنے کیلئے 21مارچ سے پہلے سیاسی معاہدہ طئے کرنے کی کوشش میں ہے ۔ جان کیری آج واشنگٹن واپس ہونے والے ہیں ۔ بے باک مذاکرات کی چند تفصیلات کا افشاء ہوگیا ہے لیکن عالمی طاقتیں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہیں کہ نیوکلیئرہتھیار تیار کرنے کے ایران کے راستے کو منقطع کردیا جائے اور اس کے عوض وہ بین الاقوامی تحدیدات جنہوں نے ایران کی معیشت کو مفلوج کردیا ہے بتدریج نرم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن اس بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ کیا معاہدہ طئے پائے گا حالانکہ عبوری معاہدہ پر نومبر 2013ء میں اتفاق رائے ہوچکا ہے لیکن دو مرتبہ قطعی آخری مہلت گذر جانے کے باوجود کوئی جامع معاہدہ طئے نہیں پاسکا ۔ ایران اور P5+1 گروپ یعنی برطانیہ ‘ چین ‘ فرانس ‘ جرمنی ‘ روس اور امریکہ اب چاہتے ہیں کہ مارچ کے ختم تک سیاسی معاہدہ کو قطعیت دے دی جائے جب کہ قطعی آخری مہلت کی ٹیکنیکی تفصیلات ختم جون تک طئے کردی جائیں گی۔ جان کیری اور محمد جواد ظریف کئی مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں ‘ زیادہ تر ملاقاتیں یوروپ کے شہروں میں ہوئی ہیں اور انہوں نے اس پیچیدہ معاہدہ کے بارے میں موجود اختلافات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ پر اپنے وطن کے سخت گیر عناصر کا دباؤ جاری ہے ۔ امریکی ارکان مقننہ دھمکی دے رہے ہیں کہ مارچ کے بعد ایران پر تازہ تحدیدات عائد کردی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT