Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / نیوکلیئر بم سازی کی جانب ایران کے بڑھنے والے ہر قدم کو روکنا ہے : اوباما

نیوکلیئر بم سازی کی جانب ایران کے بڑھنے والے ہر قدم کو روکنا ہے : اوباما

میزائیل پروگرام پر پابندی غیرقانونی : ایران، آئی اے ای اے سربراہ یوکیا امانو کی تہران آمد
واشنگٹن ؍ تہران ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے آج اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ اور اس پر خود ایران کی رضامندی یقینا ایک قابل فخر کارنامہ ہے تاہم اب بھی ایران پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر امریکہ نے اس معاہدہ کا اطلاق کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے اس وقت کا تذکرہ کیا جب وہ ملک کی وزیرخارجہ تھیں اور کہا کہ ایران پر نیوکلیئر تجربات ترک کرنے کیلئے تحدیدات کا جو بوجھ عائد کیا گیا تھا اس کیلئے وہ (ہلاری) خود بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کے (ہلاری) اسی قدم نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے مجبور کیا تھا اس کے بعد جو کچھ ہوا جیسا کہ کہا جاتا ہے وہ تاریخ بن چکا ہے۔ ایران معاہدہ کے تحت اپنی ضرورتوں کی تکمیل ضرور کررہا ہے لیکن اب بھی نہ جانے کیوں، ایران پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ 36 سالوں میں یہ ایک ایسا اچھا دن آیا ہے جس نے واقعتاً مسرت کا پیغام دیا ہے اور اسی ایک دن نے ہمیں یہ احساس دلایا ہے کہ حالات ایک بار پھر معمول پر آجائیں گے۔ شام سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں امریکی زمینی فوج کی تعیناتی کی وہ حمایت نہیں کریں گی۔ دوسری طرف امریکی صدر بارک اوباما نے بھی ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر بم سازی کی جانب ایران کے بڑھنے والے ہر قدم کو روکنا ہے۔ کل کا دن ہمارے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوا جہاں ہم نے ایران کو نیوکلیئر ہتھیار سازی سے ہمیشہ کیلئے روک دیا اور اس تاریخی فیصلہ کو ہم نے سفارتی طریقہ کار اپناتے ہوئے حاصل کیا تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک اور جنگ کا بگل نہ بج جائے۔ دوسری طرف ایران نے امریکہ کی جانب سے اس کے (ایران) بالسٹک میزائیل پروگرام پر تحدیدات عائد کرنے کے عمل کو غیرقانونی قرار دیا جبکہ کچھ عرصہ قبل ہی ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے نیوکلیئر معاہدہ کی توثیق کی گئی تھی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا میزائیل پروگرام نیوکلیئر ہتھیار سازی کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع نہیں کیا گیا۔ اگر ایران پر تازہ معاشی تحدیدات عائد کی جارہی ہیں تو یہ یقینی طور پر امریکہ کا ایک غیرقانونی عمل ہے۔ اسی دوران آئی اے ای اے سربراہ یوکیا امانو تہران پہنچ چکے ہیں تاکہ ایران نیوکلیئر معاہدہ پر عمل آوری کا سلسلہ جاری رکھے جس کی حال ہی میں صدر اوباما اور صدر حسن روحانی کی جانب سے ستائش کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اٹامک نگرانکار نے کہا کہ امانو صدر ایران حسن روحانی اور ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی سے ملاقاتیں کریں گے جس کے تحت معاہدہ پر ایران کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دوسری طرف حسن روحانی کا موقف یہ ہیکہ وہ امریکہ کی جانب سے میزائیل پروگرام پر تازہ تحدیدات کو ایران کیلئے ایک تشویشناک لمحہ سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ 2013ء میں حسن روحانی کی انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کی شخصی دلچسپی نے ہی گذشتہ سال 14 جولائی کو ویانا میں نیوکلیئر معاہدہ کو قطعیت دینے میں اہم رول نبھایا تھا جس میں ان کی سفارتی کوششوں کا بھی عمل دخل تھا۔

TOPPOPULARRECENT