Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / نیوکلیئر سپلائرس گروپ اور ہندوستان

نیوکلیئر سپلائرس گروپ اور ہندوستان

ایک پل کی غفلت بھی بن نہ جائے ناکامی
سامنے جو منزل ہے اک سراب ثابت ہو
نیوکلیئر سپلائرس گروپ اور ہندوستان
نیوکلیئر سپلائرس گروپ (این ایس جی) سے ہندوستان کو دور رکھنے اور پاکستان کو گروپ میں شامل کرنے امریکہ پر دبائو ڈالتے ہوئے چین نے جس شدت کے ساتھ مہم شروع کی ہے اس کی دیگر طاقتور لابی نے بھی حمایت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا طرز عمل این ایس جی ارکان کے موجودہ معیارات کو پورا نہیں کرتا اس کے علاوہ ہندوستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے تلف کردینے کی ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے بھی انکار کرتا آرہا ہے۔ چین کی شدید مخالفت کے باوجود وزیر خارجہ سشما سوراج کا یہ اظہار اعتماد کہ نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں شامل ہونے ہندوستان کی کوششوں کو چین کی حمایت حاصل ہوگی۔ حساس نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی نگرانی کرنے والے 48 قومی گروپ کی رکنیت ہندوستان کے لئے اہم سمجھی جارہی ہے۔ این ایس جی کا قیام 1974ء میں ہندوستان کے نیوکلیئر دھماکے کرنے کے نتیجہ میں عمل میں آیا تھا۔ این ایس جی کے رہنمایانہ اصولوں کو 1994ء میں شامل کیا گیا تھا۔ اس گروپ کے ہر رکن کو نیوکلیئر مواد کی سربراہی کا حق اس صورت میں کرے گا جب وہ اس بات کا اطمینان کرلے کہ اس کی سربراہی کے نتیجہ میں نیوکلیئر ہتھیاروں کا پھیلائو نہیں ہوگا۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے تحت ہی گروپ کو خصوصیت حاصل ہے مگر پاکستان اور ہندوستان کے تعلق سے جو اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں اس سے چین زیادہ سرگرم ہورہا ہے۔ پاکستان کی حمایت کرنے ہندوستان کی مخالفت کی خاص وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ این ایس جی کی مدد سے مستقبل میں نیوکلیئر ری ایکٹرس سے برقی حاصل کرکے فائدہ اٹھانے میں پاکستان کو موقع ملے۔ ہندوستان کو برقی حصول کی تجارت سے بھی محروم رکھنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اگر ہندوستان اور پاکستان اس گروپ کا حصہ بن جائیں تو اس نیوکلیئر ری ایکٹرس سے حاصل ہونے والی برقی کی تجارت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ مگر ہندوستان اس گروپ میں شامل ہونے کی راہ میں حائل چین کو کس طرح راضی کراسکے گا یہ اہم مسئلہ ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے چین کو راصی کرانے کی امید ظاہر کی ہے اور اس سلسلہ میں معتمد خارجہ ایس جے شنکر کو چین روانہ کرکے نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کے لئے چین سے حمایت کرنے کی درخواست بھی کی لیکن اس کوشش کے باوجود چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔ یہ ایک بڑی ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ اس مسئلہ پر دونوں ملکوں چین اور ہندوستان کی اعلی قیادت کو ہی کوشش کرنی ہوگی اگر ہندوستان کو نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں شامل کرلیا جائے تو این ایس جی نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنے میں مزید موثر رول ادا کرسکے گا۔ چین کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کو چین کے صدر سے ملاقات کرنی ہوگی۔ ازبکستان میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے موقع پر صدر چین شی جن پنگ بھی شرکت کررہے ہیں اور وزیراعظم مودی بھی وہاں موجود ہوں گے تو نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کی مخالفت کے مسئلہ کو اٹھایا جاسکتا ہے۔ صدر چین سے وزیراعظم مودی کی ملاقات کو موثر بناتے ہوئے چین کی حمایت کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں پیر سے سالانہ اجلاس شروع ہوا مگر ہندوستان کی رکنیت کے معاملہ پر غور کرنے کی جانب توجہ دینے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ 48 رکنی گروپ نیوکلیئر صلاحیت کے حامل برصغیر کے دو ملکوں ہندوستان اور پاکستان کی رکنیت کے مسئلہ پر تیزی سے مشاورت کرتا ہے اور چین کی مخالفت کو نظرانداز کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ ہندوستان کی رکنیت یقینی ہوگی لیکن 4 جون کو منعقدہ اجلاس میں ان ممالک کی شمولیت کے بارے میں غور و خوص نہیں کیا گیا جنہوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلائو معاہدے کی توثیق نہیں کی۔ ہندوستان بھی این پی ٹی کی توثیق نہ کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ اس عذر کو لے کر چین شور مچارہا ہے کہ ہندوستان کو این ایس جی کا رکن نہ بنایا جائے۔ ایسے میں ہندوستانی قیادت کو اپنی بات منوانے کی کوشش میں شدت لانی ہوگی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلائو معاملہ پر ہندوستان کے موقف سے واقف کرانا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT