Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / نیوکلیائی مادہ کی غیرقانونی منتقلی میں خود حکومتوں کا رول

نیوکلیائی مادہ کی غیرقانونی منتقلی میں خود حکومتوں کا رول

The Prime Minister, Shri Narendra Modi at the dinner hosted by the President of United States of America (USA), Mr. Barack Obama, at the White House, in Washington D.C. on March 31, 2016.

مودی کا ادعا، نیوکلیئر سکیورٹی کی پابندی اولین ترجیح، چوٹی کانفرنس سے خطاب
واشنگٹن ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان پر درپردہ تنقید میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ایسی حکومتیں جو نیوکلیائی توانائی کی غیرقانونی منتقلی کا کام کرتی ہیں، اور دہشت گردوں کی موجودگی نیوکلیئر سکیورٹی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’اُن کا دہشت گرد ، میرا دہشت گرد نہیں‘‘ باور کرانے کا رجحان ختم کیا جانا چاہئے۔ بروسلز کے حالیہ دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ حقیقی اور فوری خطرہ دہشت گردوں سے نیوکلیئر سلامتی کو لاحق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تمام ممالک اس ضمن میں مکمل طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے پابند عہد ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کی تین خصوصیات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ دنیا کو اس پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔ مودی نے کہا کہ آج کی دہشت گردی انتہاء درجہ کے تشدد کو بطور ’’تھیٹر‘‘ استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب غار میں رہنے والے کسی شخص کی تلاش نہیں ہے۔ ہم ایسے دہشت گرد کی تلاش میں ہیں جو شہروں میں کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کے ساتھ رہتا ہے۔ تیسری خصوصیت یہ ہیکہ بعض حکومتیں نیوکلیئر توانائی کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث تنظیموں اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعہ عظیم تر خطرہ بن گئی ہیں۔ اُن کا اشارہ واضح طور پر پاکستان ہے۔ دنیا بھر کو دہشت گردی سے لاحق خطرہ کے بارے میں وزیراعظم ہند نے تفصیل سے بیان کیا۔ انھوں نے صدر امریکہ براک اوباما کے نیوکلیائی صیانتی اقدامات کی بھرپور ستائش کی اور کہا کہ اوباما کی یہ روایت مستقل رہنا چاہئے۔ انہوں نے نیوکلیئر سکیورٹی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اوباما نے عالمی صیانت کیلئے عظیم خدمت انجام دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیوکلیئر توانائی ہندوستان کی ہمیشہ اولین قومی ترجیح بنی رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT