Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / نیوکلیر مذاکرات میں اختلافات میں کمی کا ادعا

نیوکلیر مذاکرات میں اختلافات میں کمی کا ادعا

ویانا 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کار اعلیٰ نے آج کہاکہ دونوں فریقین بعض مسائل میں باہمی اختلافات کی یکسوئی کی سمت سست رفتار سے پیشرفت کررہے ہیں۔ آج سرگرم مذاکرات ہوئے۔ تاکہ جولائی میں مقررہ آخری مہلت سے قبل قطعی معاہدہ ہوسکے۔ اُنھوں نے مذاکرات کے اختتام سے قبل ویانا میں ایک بیان جاری کیا جس میں

ویانا 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کار اعلیٰ نے آج کہاکہ دونوں فریقین بعض مسائل میں باہمی اختلافات کی یکسوئی کی سمت سست رفتار سے پیشرفت کررہے ہیں۔ آج سرگرم مذاکرات ہوئے۔ تاکہ جولائی میں مقررہ آخری مہلت سے قبل قطعی معاہدہ ہوسکے۔ اُنھوں نے مذاکرات کے اختتام سے قبل ویانا میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بعض سوالات پر ہمارے عالمی طاقتوں سے اختلافات ہیں۔ تاہم کل رات دیر گئے پہلے دن کے مذاکرات کے اختتام پر اختلافات کی یکسوئی کی سمت سست رفتار پیشرفت ہوئی۔ عباس ارغچی نے تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ تاہم کہاکہ ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ آئندہ مرحلہ کی بات چیت مقرر ہے۔ 2014 ء میں یہ مذاکرات کا چوتھا دور ہوگا

اور امکان ہے کہ وسط مئی میں منعقد کیا جائے گا۔ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے جو مذاکرات میں شامل تھا کہاکہ گزشتہ ہفتہ مذاکرات کاروں نے اُمید ظاہر کی تھی کہ موجودہ مرحلہ میں قابل لحاظ پیشرفت ہوگی اور مئی کے مذاکرات میں معاہدہ کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ نومبر میں دونوں فریقین ایک عبوری معاہدہ پر دستخط کرچکے ہیں۔ اِس کے تحت ایران کے نیوکلیر پروگرام کے بعض حصوں کو منجمد کردیا گیا، جس کے عوض مغربی ممالک نے اپنے سخت تحدیدات میں تھوڑی سی نرمی پیدا کی۔ لیکن ایران نے اپنے نیوکلیر آلات کو مکمل طور پر تلف نہیں کیا ہے اور افزودگی کی تمام تنصیبات 20 جولائی تک برقرار رکھے گا۔ جبکہ عبوری معاہدہ کی مدت ختم ہوجائے گی۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے امریکی ارکان مقننہ سے پیر کے دن کہا تھا کہ نظریاتی اعتبار سے ایران کے لئے بم کے مادے تیار کرنے کے لئے کافی عرصہ درکار ہے۔ اگر وہ اندازہ لگانا چاہیں تو امکان ہے کہ یہ مدت دو ماہ ہوگی۔

6 عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران قطعی معاہدہ کرلے اور مستقل طور پر یا کم از کم طویل مدتی بنیاد پر اپنے نیوکلیر پروگرام میں تخفیف کرے۔ معاہدہ میں ایران کی جانب سے اُس کے سنٹری فیوجس کی تعداد میں تخفیف بھی شامل ہے جنھیں نیوکلیر مادہ کی افزودگی کے لہئے استعمال کیا جاتا ہے اور ارک میں اِس کے نئے ری ایکٹر کے ڈیزائن میں تبدیلی کرنا بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو نگرانی کی زیادہ سہولتیں فراہم کرنا بھی معاہدہ بھی شامل ہوگا۔ دیگر نمایاں متنازعہ مسائل میں ایران کی جانب سے مسلسل تحقیق اور ترقی یافتہ سنٹری فیوجس کی تیاری کے علاوہ بالسٹک میزائیل پروگرام بھی شامل ہے۔ کسی بھی معاہدہ کے لئے امریکہ اور ایران کے کٹر حریف اسرائیل کے سخت گیر عناصر کو مطمئن کرنا ضروری ہوگا جو ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اِس کے پاس نیوکلیر ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ خود اسرائیل اور امریکہ نیوکلیر طاقتیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT