Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / نیوکلیر معاملت سے امریکہ ۔ ایران تعلقات میں نمایاں تبدیلی کی امید نہیں

نیوکلیر معاملت سے امریکہ ۔ ایران تعلقات میں نمایاں تبدیلی کی امید نہیں

سینئیر فیلو ، امریکن پروگریس ، برئین کٹولیس کی نمائندہ سیاست سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اگست : ( رتنا چوٹرانی ) : امریکن پروگریس کے سینئیر فیلو ، برئین کٹولیس نے بتایا کہ ایران نیو کلیر معاملت سے کس طرح دیگر موضوعات پر بات چیت کے لیے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ کٹولیس نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکہ کی نیشنل سیکوریٹی پالیسی پر کئی مضامین تحریر کئے ہیں ۔ وہ حکومت امریکہ کی کئی ایجنسیوں ، خانگی کارپوریشنس اور غیر سرکاری اداروں کے کنسلٹنٹ رہے ہیں ۔ وہ پراجکٹس دو درجن سے زائد ممالک میں ہیں بشمول عراق ، پاکستان ، افغانستان ، یمن ، مصر اور کولمبیا ۔ ایک گفتگو میں برئین کٹولیس نے حالیہ یو ایس ایران نیوکلیر ڈیل ، طالبان اور آئی ایس آئی ایس پر اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس ڈیل سے امریکہ ۔ ایران تعلقات میں ایک نئے چیاپٹر کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے محض جھوٹی امید ہے ۔ کٹولیس نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ محض اس نیوکلیر معاملت سے امریکہ ۔ ایران تعلقات میں کوئی بڑی تبدیلی ہوگی ۔ ان تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے جسکی انہیں توقع ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاملت ایک تاریخی معاہدہ ہے ۔ انہوں نے کہا ’ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے اس بات کو یقینی بنانے کا ایک انتہائی موثر طریقہ ہے کہ ایران نیوکلیر ہتھیار حاصل نہ کرے ‘ ۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دہوں تک امریکہ کی کارروائی اور ایران کی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یکایک تبدیلی نہیں ہوگی ۔ اگر اس میں کوئی امید ہے تو وہ اس کے لیے عملی اقدامات کریں گے ۔ سفارتی تعلقات کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور اس سے دیگر موضوعات پر بات چیت کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ ہندوستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک آرٹیکل پر کام کررہے ہیں جو کہتا ہے کہ کس طرح ہندوستان آئندہ سال یا دو سال میں ایران کے سامنے منفرد مقام بنا سکتا ہے اور اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لیے بھی ۔ اگر آپ اس تعلق سے سوچیں تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان دنیا کے چند ایک ممالک میں ایک ہوسکتاہے جو ان تمام ممالک کے ساتھ تعمیری نوعیت کے اور بہتر تعلقات استوار کرسکتا ہے ۔ اگر پابندیاں اٹھا لی جائیں تو کچھ معاملتوں سے کامرس کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ اس سے ہندوستان اور چین کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی راہ ہموار ہوگی ۔ دراصل ہندوستان بہتر معاملت کرنے والے دنیا کے چند ممالک میں ایک ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے حکومت افغانستان کی کاوشوں کے ثمر آور نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان جیسے ایک گروپ اور پاکستان کے مقامات پر اس کی قیادت کے ساتھ راہ ہموار کرنا واقعی مشکل ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ کوشش کرنا اہم ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT