Monday , June 18 2018
Home / دنیا / نیویارک حملہ امیگریشن نظام میں اصلاحات نافذ کرنے کا متقاضی

نیویارک حملہ امیگریشن نظام میں اصلاحات نافذ کرنے کا متقاضی

 

امریکہ کو نقصان پہنچانے آنے والوں کی سخت
جانچ پڑتال کی جائے : ٹرمپ کا ٹوئیٹ
دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے والوں کو
سزائے موت کی اپیل
ملزم کا بنگلہ دیش میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں : بنگلہ دیش

واشنگٹن ؍ ڈھاکہ ۔ 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میٹرو اسٹیشن کے قریب ہوئے دھماکہ کے بعد کانگریس کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ امیگریشن اصلاحات کا فوری اطلاق کرے۔ یاد رہیکہ حملہ آور عقائد اللہ نامی ایک بنگلہ دیشی شہری بتایا گیا ہے جو دولت اسلامیہ کے نظریات سے مغلوب تھا۔ حملہ میں چار افراد زخمی ہوئے۔ 27 سالہ عقائداللہ نے وائر اور پائپ بم اپنے جسم سے باندھ رکھا تھا تاہم پورٹ اتھاریٹی جو نیویارک کا سب سے بڑا بس ٹرمنل ہے، کے قریب سب وے کے دو پلیٹ فارمس کے درمیان بے وقت پھٹ گیا۔ ٹرمپ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ کے اندر نیویارک میں حملہ کا یہ دوسرا واقعہ ہے لہٰذا اب امریکی عوام کے تحفظ کیلئے کانگریس کو قانونی اصلاحات کا نفاذ کرنا پڑے گا۔ بتایا جاتا ہیکہ مشتبہ ملزم فیملی ویزا پر سات سال قبل امریکہ آیا تھا۔ ٹرمپ کے ٹوئیٹ کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے اس ضرورت پر زور دیاکہ امریکہ کے نقائص سے بھرپور امیگریشن قوانین میں ترمیم کی جائے کیونکہ نقائص کی وجہ سے کئی خطرناک قسم کے لوگ امریکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص اپنے رشتہ داروں کی موجودگی اور اس کے دورہ کو ان کی جانب سے اسپانسر کرنے کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ویزا کے ذریعہ امریکہ آیا تھا۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ برخاست کرنے پر غورخوض کررہا ہے۔ تاہم اب سیکوریٹی معاملہ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ جن چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ آنے پر امتناع عائد کرنے ٹرمپ کے فیصلہ کی سپریم کورٹ نے حمایت کی ہے وہ دراصل امیگریشن کے تحفظ کی جانب بڑھایا جانے والا پہلا قدم ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امیگریشن نظام میں جو بھی خامیاں پائی جاتی ہیں انہیں درست کرنا ان کی اولین ترجیح ہے تاکہ امریکہ اور امریکی عوام کا تحفظ کیا جاسکے۔ جو لوگ بھی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں انہیں سخت ترین سزائیں دینے کی ضرورت ہے بشمول سزائے موت۔ اس موقع پر وائیٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے کہا کہ نیویارک سب وے میں ہوئے حملہ سے اب یہ بات قطعی طور پر سامنے آگئی ہے کہ کانگریس کو صدر ٹرمپ کے ساتھ سر جوڑتے ہوئے امیگریشن اصلاحات پر کام کرنا ہوگا جس سے قومی سلامتی میں اضافہ ہوگا۔ سارہ نے کہا کہ ہمیں اپنی سرحدوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ آنے والا کوئی بھی فرد امریکہ کو نقصان پہنچانے یہاں نہ آئے لہٰذا میرٹ کی بنیاد پر امیگریشن نظام کو متعارف کئے جانے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش پولیس نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ملزم عقائداللہ کا بنگلہ دیش میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں پایا جاتا اور ملک ہمیشہ کی طرح دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھنے کے عہد کا پابند ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے بتایا کہ پاسپورٹ صرف ان ہی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے جن کے ماضی کے بارے میں چھان بین کے بعد پولیس مطمئن ہوتی ہے۔ یہ معلوم کرنے کی سب سے پہلے کوشش کی جاتی ہیکہ آیا پاسپورٹ کی درخواست دینے والے کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے یا نہیں؟ لہٰذا عقائداللہ نے بروکلین میں اپنے ارکان خاندان کا پتہ دیا تھا جس کی جانچ پڑتال کے بعد اسے درست پایا گیا تھا۔ بروکلین ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے متعدد لوگ آباد ہیں۔ واشنگٹن میں بنگلہ دیش کے سفارتخانے نے بھی نیویارک حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردانہ واقعات کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بنگلہ دیش دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھنے کے عہد کا پابند ہے۔ ڈھاکہ میں بھی یکم ؍ جولائی کو عسکریت پسندوں نے ایک کیفے میں ہلہ بول دیا تھا جس میں 22 افراد بشمول 17 غیرملکیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہیکہ امریکی پولیس عقائداللہ کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ بنگلہ دیش پولیس بھی نیویارک پولیس کے ساتھ تعاون کرے۔ جب عقائداللہ کے خلاف بنگلہ دیش کا یہ استدلال ہیکہ اس کا ماضی بے داغ ہے تو یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔

TOPPOPULARRECENT