Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / نیویارک پرائمری سے قبل ہندوستانی نژاد امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی

نیویارک پرائمری سے قبل ہندوستانی نژاد امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی

موجودہ امریکی حکومت پاکستان نواز، ٹرمپ ہندوستان کے حق میں بہتر ثابت ہوں گے ۔رپورٹ

نیویارک ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نیویارک پرائمری جو جاریہ ماہ منعقد شدنی ہے اور جسے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے وہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس پرائمری سے قبل ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو بعض ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی زبردست تائید حاصل ہے۔ ان کا یہ خیال ہیکہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہمات جس طرز پر چلا رہے ہیں وہ یقینا آگے چل کر (ٹرمپ کے صدر بننے کی صورت میں) ہندوستان کیلئے بیحد فائدہ مند ثابت ہوگی۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے غیرقانونی امیگریشن پر امتناع عائد کرنے کے بیانات کئی بار دیئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ متنازعہ بیانات دینے کیلئے ’’بدنامی کی حد تک مشہور‘‘ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مسلم دشمنی کا بھی کھل کر اظہار کیا اور یہ تک کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ جذباتی قسم کے تارکین وطن جن کا ایک مخصوص گروپ ہے، جو متنازعہ بیانات کے باوجود ٹرمپ کی تائید میں آگے آئے ہیں حالانکہ ٹرمپ نے یہ تک کہا تھا کہ میکسیکن عصمت ریزی کرنے والے اور منشیات فروخت کرنے والے ہیں اور یہ بھی کہا تھا کہ تقریباً 11 ملین غیرقانونی تارکین وطن کو دوبارہ ان کے متعلقہ ممالک روانہ کردیا جائے گا۔

رپورٹ میں ہندوستانی نژاد امریکی وکیل آنند آہوجہ کا حوالہ دیا گیا ہے جو ’’پالیٹیکل ایکشن کمیٹی انڈین ۔ امریکنس برائے ٹرمپ 2016‘‘ کے بانی ہیں جس کے مطابق آنند آہوجہ ٹرمپ کے اس موقف کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ امریکہ میں غیرقانونی تارکین وطن کو داخل نہ ہونے دیا جائے۔ 19 اپریل کو نیویارک پرائمری منعقد شدنی ہے۔ قبل ازیں آہوجہ کے حوالے سے یہ بات بھی کہی گئی ہیکہ قانون توڑنے والے کسی بھی شخص کو انعام و اکرام سے نوازا نہیں جاتا۔ آپ قانون کا احترام کریں یا پھر سزا کیلئے تیار رہیں۔ اسی لئے مجھے ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ بات اچھی لگتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ایک بلند و بالا دیوار تعمیر کی جائے۔ آہوجہ کے اس بیان کو رپورٹ میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ اسی طرح 30 سالہ قانون کی طالبہ ادیتی شرما فیس بک گروپ کے ان 20 ہندوؤں میں شامل ہے جو ٹرمپ کے زبردست حامی ہیں، نے کہا کہ بزنس کے بادشاہ ایک مضبوط اور مختلف قسم کے امیدوار ہیں۔

اس نے ٹرمپ کی اس بات کی بھی تائید کی جہاں انہوں نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا متنازعہ بیان دیا تھا۔ آدیتی اور اس کے دیگر دوستوں کا ماننا ہیکہ موجودہ امریکی حکومت کا جھکاؤ پاکستان کی طرف بہت زیادہ ہے اور وہ پاکستان کو ہندوستان سے بہتر درست تصور کرتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کی پالیسی ہندوستان کیلئے بہتر ثابت ہوگی۔ دوسری طرف ماہرین کا کہناہ کہ ٹرمپ کیلئے جو ’’سپورٹ گروپس‘‘ تشکیل دیئے جارہے ہیں جیسا کہ ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں نے کیا ہے، اس سے پوری برادری کے جذبات کی عکاسی نہیں ہوتی۔ یہ صرف چند گروپس کا نظریہ ہے جسے پوری قوم اور پورے ملک پر لادا نہیں جاسکتا۔ 2008ء کے انتخابات میں ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی اکثریت نے (84 فیصد) موجودہ صدر بارک اوباما کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ آہوجہ نے رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حق میں تائیدی موقف کے اظہار پر اسے مختلف گوشوں سے تنقیدوں کا سامنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT