Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / نیو کلیئر معاہدہ ایران کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط نہیں :اوباما

نیو کلیئر معاہدہ ایران کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط نہیں :اوباما

واشنگٹن 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )امریکی صدر بارک اوباما نے آج اسرائیل کے اس مطالبہ کو یکسر مستر د کردیا کہ ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ صرف اسی شرط پر ہونا چاہئے کہ ایران اسرائیلی مملکت کو تسلیم کرے ۔ اوباما نے کہا کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ بنیادی طور پر ایک عدم انصاف پسندی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے نیو کلیئر معاہدہ کیلئے خود اپن

واشنگٹن 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )امریکی صدر بارک اوباما نے آج اسرائیل کے اس مطالبہ کو یکسر مستر د کردیا کہ ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ صرف اسی شرط پر ہونا چاہئے کہ ایران اسرائیلی مملکت کو تسلیم کرے ۔ اوباما نے کہا کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ بنیادی طور پر ایک عدم انصاف پسندی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے نیو کلیئر معاہدہ کیلئے خود اپنی شرائط کے اظہار کے بعد اوباما نے یو ایس ریڈیونیٹ ورک این پی آر سے بات کرتے ہوئے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ایران سے نیو کلیئر معاہدہ کو اسرائیلی مملکت کو تسلیم کئے جانے سے مشروط کرنے ایک فاش غلطی ہوگی جس کا معاہدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اوباما نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ایک منطقی بات کہی کہ ایران سے یہ کہنا کہ اس کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ اسرائیلی مملکت کو تسلیم نہ کرلے‘

یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایران سے ہم یہ کہیں کہ اس کا نیو کلیئر معاہدہ اس وقت تک لیت و لعل میں پڑا رہے گا جب تک ایرانی حکومت مکمل طور پر اصلاحات پر عمل آوری نہیں کرتی اور یہی وہ بنیادی غلطی ہوگی جس کا ارتکاب ہم نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ گذشتہ ہفتہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے نیو کلیئر معاہدہ کے فریم ورک کو قطعیت دی گئی تھی جس پر اسرائیل نے چراغ پا ہوکر کافی واویلا مچایا تھا جبکہ قطعی معاہدہ 30 جون تک ہونا قرار پایا ہے۔ وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے اتوار کو مطالبہ کیا تھا کہ ایران کی مملکت اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی شق کو معاہدہ میں شامل کیا جائے ۔ اسرائیل کے وزیر برائے انٹلی جنس یوال اسٹائنیٹز نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کی جانب سے اسرائیل کو سکیوریٹی کی طمانیت دیئے جانے کے باوجود بھی ایران کی جانب سے نیو کلیئر حملہ کا خطرہ جوں کا توں برقرار رہے گا۔عالمی طاقتوں کا اس معاملہ میں کیا موقف ہے اس کی وضاحت 30 جون سے قبل منظر عام پر آسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT