Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / نیٹ حکومت کی نیت !

نیٹ حکومت کی نیت !

مرکزی حکومت نے قومی سطح پر میڈیکل انٹرنس امتحان کے معاملہ میں سانپ زندہ رہے اور لاٹھی بچی رہے پر مبنی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مؤخر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ملک میں عوام سے زیادہ خود کو عقلمند سمجھتی ہے۔ سپریم کورٹ نے حق اختیارات، اصولوں کا تقاضہ کیا ہے وہ سارے ملک پر قابل اطلاق ہوتی ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں مگر میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے قومی سطح کے کامن انٹرنس ٹسٹ پر جن گروپس کو اعتراض ہے اس پر دھیان دینے کیلئے مہلت ہی نہیں تھی۔ حکومت نے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو کچلنے کی خاطر آرڈیننس کو مرکزی کابینہ سے منظور کرادیا۔ 9 مئی کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے ٹیٹ فیصلہ کو مؤخر کردیا جائے۔ ریاستوں کی جانب سے احتجاج کے باوجود نئے نیٹ طرز کا امتحان پہلے ہی منعقد ہوا ہے۔ دوسرا مرحلہ 24 جولائی کو ہونے والا ہے۔ ایک بار آرڈیننس منظور ہوجائے تو اسٹیٹ گورنمنٹ بورڈس کے طلباء کو 24 جولائی کو منعقد ہونے والے ٹسٹ میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کامن انٹرنس ٹسٹ قومی اہلیتی انٹرنس ٹسٹ کی حمایت کرنے والے اداروں نے حکومت کے آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکام کو حکومت صرف ایک آرڈیننس لاکر بے اثر نہیں کرسکتی۔ اس آرڈیننس کو چیلنج کرنے کی کئی ایک بنیادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کہا جارہا ہیکہ حکومت نے اس طرح کا آرڈیننس لاکر صرف ان میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کی سرپرستی کررہی ہے جو داخلوں کے نام پر طلباء سے لاکھوں روپئے کیپیٹیشن فیس وصول کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ ریاستی سطح پر ہونے والی میڈیکل داخلوں کی دھاندلیوں اور کرپشن کو جائز قرار دیا جائے۔ ریاستی اور مرکزی اداروں میں اب تک ہونے والی بدعنوانیوں کے واقعات بہت ہی ناقابل یقین حد تک بلندی کو پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ کئی خانگی کالجس NEET کے ذریعہ داخلوں کیلئے وضع کردہ اصول و قواعد شرائط کی تکمیل کرنے سے قاصر ہیں۔ خانگی کالجوں اور سیاستدانوں کی طاقتور لابی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اپنی بدعنوانیوں کی لاٹھیوں سے ڈرا دھمکا کر دبانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے آرڈیننس سے وقتی طور پر میڈیکل میں داخلے کے متمنی طلباء کو راحت ملے گی مگر یہ میڈیکل شعبہ کیلئے دیرینہ طور پر میرٹ کو کچل دینے کیلئے کافی ہے جو طلباء میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لینے کے اہل ہیں انہیں دولت اور طاقت رکھنے والوں نے پیچھے ڈھکیلنے کا بندوبست کرنا چاہا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے فیصلہ کو اس طرح رد کردینے کی ہمت اس لئے کی جارہی ہے تاکہ سیاستداں اور خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ اپنے کالے دھن میں مزید اضافہ کرسکیں۔

ملک میں میڈیکل کی تعلیم کو دن بدن مہنگا بتایا جارہا ہے اور اس کیلئے منہ مانگی دولت بھی لی اور دی جارہی ہے۔ اگر نیٹ کے ذریعہ داخلوں کو یقینی بنایا گیا تو پھر ان سیاستدانوں اور خانگی کالجس کے انتظامیہ کا سرمایہ منجمد ہوگا جنہوں نے میڈیکل ایجوکیشن کی فیکٹریوں میں لگادیا ہے۔ نیٹ پر عمل آوری کا مسئلہ صرف اسی ایک سال کیلئے تھا ماباقی آنے والے برسوں میں نیٹ کو لاگو کیا جائے تو داخلوں کیلئے جاری اندھادھند رشوت ستانی کا بازار بند ہوجائے گا۔ اگر عوام کچھ شعور بیداری کا مظاہرہ کریں تو نیٹ کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی حمایت کرسکتے ہیں۔ اگر اس سال نیٹ کو روبہ عمل نہیں لایا گیا تو پھر سیاستدانوں کو اندھاھند طریقہ سے میڈیکل طلباء کو لوٹنے کا موقع مل جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنانے کے ساتھ تمام ریاستی حکومتوں کو موقع دیا تھا کہ وہ اس تعلق سے تیاری کریں۔ ریاستوں کو 85 فیصد کا کوٹہ حاصل ہے۔ ان کی نشستیں کہیں نہیں جائیں گی پھر بھی سیاستدانوں نے میڈیکل تعلیم میں اپنے نہ صرف ہاتھ ڈال دیئے ہیں بلکہ پوری طاقت جھونک کر سپریم کورٹ کے خلاف سیاسی چٹان بنا لی ہے۔ حکومت کے اس آرڈیننس سے طلباء برادری کو راحت ضرور پہنچے گی مگر یہ طلباء اپنے ایک سال کی فکر میں آنے والے ہر سال کیلئے بدعنوانیوں کا گیٹ کھول دینے میں سیاستدانوں کی مدد کررہے ہیں تو آئندہ میڈیکل تعلیم کے خواہاں طلباء کو ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنے کیلئے قابلیت یا میرٹ نہیں بلکہ صرف دولت اکھٹی کرنے کی فکر کرنی ہوگی۔ سعودی حکومت پر اب تک کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا جارہا تھا اب خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کی جیب بھرنے میں بروکر کا رول ادا کرنے کا بھی الزام عائد ہوگا۔ جیسا کہ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے کہا کہ کئی سیاستداں ایسے ہیں جن کے اپنے خانگی میڈیکل کالجس ہیں۔ ان میں سے کئی میڈیکل کالجس ڈونیشن کے نام پر بھاری رقومات بٹور رہے ہیں اور میڈیکل تعلیم کیلئے ڈونیشن ہی نیٹ امتحان کے مغائر ہے۔ دولت کے سہارے والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ یہ طلباء تعلیم کے بنیادی اصول سے بھی واقف نہیں رہتے۔ جب یہ ڈاکٹر بن جائیں گے تو پھر پیشہ طب کی ابتری کس حد تک نیچے جائے گی اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

آر بی آئی ، ایک خودمختار ادارہ ؟
ریزرو بینک آف انڈیا ملک کا ایک خودمختار ادارہ ہے لیکن اس کے فیصلہ سازی کے اختیارات حکمراں طبقہ کے ہاتھ میں ہوں تو اس ملک کے کروڑہا عوام کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا اختیار بھی حکومت کے نااہل ذمہ داروں کو حاصل ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں ملک کی معیشت سے وابستہ اہم اداروں کے تعلق سے جس طرح کی گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے اس سے مالیاتی ابتری کے اندیشے بڑھ رہے ہیں۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کے ایک رکن نے گورنر کی حیثیت سے رگھو رام راجن کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک ایسے وقت جب ہندوستانی معیشت کی رفتار درست سمت میں جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور آنے والے برسوں میں ہندوستان کو عالمی سطح پر سب سے بڑا معاشی طاقت کا حامل ملک بن کر ابھرنے کی امید کی جارہی ہے ایسے میں آر بی آئی کی فیصلہ سازی اور اس کی قیادت کے تعلق سے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہیں جو نقصاندہ ہیں۔ اس کی فیصلہ سازی کی خوبیوں کی وجہ سے ہی آج ملک کی مالیاتی مارکٹ مستحکم ہے۔ اگر آر بی آئی سے معمولی بھی غلطی ہوجائے تو سارا ملک لرزہ بہ اندام ہوجائے گا۔ آر بی آئی گورنر کی حیثیت کس شخصیت کا تقرر عمل میں لایا جانا چاہئے اور کس کو برطرف کرنا چاہئے، کا مطالبہ کرنے والے قائدین کو بے لگام چھوڑ کر بی جے پی کوئی غلط قدم اٹھاتی ہے تو مسائل ہی مسائل پیدا ہوں گے۔ بی جے پی ایم پی سبرامنیم سوامی نے آر بی آئی گورنر رگھورام پر جن پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو مکتوب لکھ کر برطرفی کا مطالبہ کیا۔ ان کے خیال میں راجن اس ملک کی معیشت کیلئے موزوں نہیں ہیں اور ان کا ذہن کامل ہندوستانی نہیں ہے۔ ہندوستانی معیشت کو مستحکم بنانے والے ادارہ کے سربراہ کے بارے میں ایک رکن پارلیمنٹ کی ذاتی رائے ہو تو پھر آنے والے برسوں معیشت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں بھی ایسے ہی قائدین ذمہ دار ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT