Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نیکیوں میں سبقت لے جانا ایمان کا تقاضہ ہے

نیکیوں میں سبقت لے جانا ایمان کا تقاضہ ہے

گلبرگہ میں خواتین کے اجتماع سے ساجدا لنساء بیگم اور دیگر کا خطاب

گلبرگہ میں خواتین کے اجتماع سے ساجدا لنساء بیگم اور دیگر کا خطاب
گلبرگہ : 19اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نیکیاں کرنا اور اس میں دوسروں سے سبقت لیجانا ہمارے اختیار میں ہے اس لئے ہما ری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کوششوں سے نیکیوں میں سبقت لیجانے والے بنیں اور سب میں بڑی نیکی یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی اللہ کی بندگی میں گزر جائے۔ ان خیالات کا اظہار فاران کالج گرائونڈ میں جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کے شعبہ خواتین کی جانب سے ’’ بھلائیوں کی طرف سبقت کرو‘‘ عنوان پر خواتین کے لئے منعقد کئے گئے خطاب عام میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک کی شعبہ خواتین کی ناظمہ محترمہ ساجد النساء بیگم نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے صفات گنوائے ہیں کہ یہ نیکیوں کی طرف لوگوں کو بلانے والے اور برائیوں سے روکنے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کی موجودہ کیفیت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس اخلاق کا مظاہرہ کرنے کا ان کو حکم دیا گیا تھا اس سے وہ کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ دنیا کے معاملات میں ایک مسلمان میں اور ایک دوسرے فرد میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو ہمیں نیکیوں کی طرف آنے کا نہیں بلکہ نیکیوں میں سبقت لیجانے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں اور دوسروں کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ کام ہر فرد کرنے لگے تو ہمارا معاشرہ سدھر سکتا ہے ۔ اجتماع کا آغاز کوثر فاطمہ ناظمہ شہر شعبہ خواتین کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ النساء کی آیت36 کی روشنی میں درس دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان آیات میں اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے رہنے کی تلقین کی ۔ انھوں نے کہا کہ حقوق العباد میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک، قرابتداروں، یتیموں ، مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک، پڑوسی رشتہ دار، اجنبی ہم سایہ، پہلو کے ساتھی، مسافر، غلام و نوکروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا جائے۔ ’’ اسلام میں اخلاق کی اہمیت ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے خیر العلوم اللبنات کی عالمہ عائشہ اسماء نے کہا کہ دین اسلام میں اخلاق کی بڑی فضیلت بتائی گئی ہے جو کسی اور جگہ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ’’نئی نسل کی نشونما میں عورت کا رول‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کی ضلعی ذمہ دار تسنیم فاطمہ صدیقی نے کہا کہ نئی نسل کی تربیت کا آغاز بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ہوتا ہے۔ جیسا کی قرآن مجید میں حضرت ذکریا ؑ نے اللہ تعالیٰ سے صالح اولاد کی دعا کی تھی اسی طرح اس کی تمنا وخواہش ہونا چاہئے اور اس کے لئے اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہئے۔ حضرت علی ؓ کے قول کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بچے کے ساتھ پہلے سات سال کھیلیں، اگلے سات سال اس کی تربیت کریں، اس کے بعد کے سات سال ان کے ساتھ دوستوں کا معاملہ کریں اور اس کے بعد انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ انھوں نے کہا کہ اولاد کی تربیت میں ماں کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ اولاد کی تربیت ایک امانت ہے۔ نسرین فاطمہ نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے اس اجتماع کے منعقد کرنے کے مقاصد بتائے اور کہا کہ اس طرح کے اجتماعات پوری ریاست میں کئے جا رہے ہیں۔ طہورہ رکن جی آئی ائو گلبرگہ نے ایک ترانہ پیش کیا۔ خواتین کی بڑی تعداد اس اجتماع میں شریک تھی۔

TOPPOPULARRECENT