Saturday , December 15 2018

ن100 نشستوں کے ساتھ تلنگانہ میں تشکیل حکومت کا دعویٰ : کے ٹی آر

رائے دہندوں سے اظہار تشکر، مہا کوٹمی کو چندرا بابو نائیڈو سے نقصان، 4 وزراء کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/8 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تقریباً 100 نشستوں کے ساتھ تشکیل حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ پارٹی نے پُرامن اور بہتر رائے دہی کیلئے عوام سے اظہار تشکر کیا اور اسے حکومت کے حق میں مثبت ووٹ قرار دیا ہے۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر رائے دہی کے انعقاد پر سیول اور پولیس عہدیداروں سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ توقع سے کہیں زیادہ رائے دہی دیکھی گئی ہے۔ خواتین اور نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر رائے دہی میں حصہ لیا۔ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ترقی کیلئے عوام کی تائید کا مظہر ہے۔ تقریباً 100 نشستوں کے ساتھ ٹی آر ایس دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ ریاستی وزراء ڈاکٹر لکشما ریڈی، ٹی سرینواس یادو، پی مہیندر ریڈی اور میئر حیدرآباد بی رام موہن کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے 90 دن تک انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے والے لاکھوں ٹی آر ایس کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں رائے دہندوں کو ووٹنگ میں حصہ لینے کیلئے کامیاب ترغیب دی گئی جو اچھی علامت ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ رائے شماری کے مرحلہ کی تکمیل تک چوکس رہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے اہم قائدین اور خود کو چیف منسٹر عہدہ کے امیدوار کہلانے والے قائدین کو مایوسی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 11 ڈسمبر کو ٹی آر ایس پارٹی کامیابی کا جشن منائے گی۔ کے ٹی آر نے کانگریس اور تلگودیشم کے اتحاد کو ناپاک سیاست کے گٹھ جوڑ سے تعبیر کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہا کوٹمی کے قائدین کی جانب سے سینکڑوں کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ کسی ایک مقام پر بھی دوبارہ رائے دہی کے امکانات کے بغیر ہی رائے دہی پُرامن طور پر مکمل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اپوزیشن اور مہا کوٹمی کے ڈراموں کو نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ای وی ایم مشینوں کی کارکردگی پر ٹی آر ایس کو کوئی شبہ نہیں ہے۔ ای وی ایم کے طریقہ کار سے کانگریس پارٹی دو مرتبہ کامیاب ہوئی ہے لیکن اب اس نتیجہ کو کیا کہیں گے۔ انہوں نے رائے شماری کے موقع پر کارکنوں کو چوکسی کا مشورہ دیا۔ کے ٹی آر نے لگڑا پاٹی راجگوپال کے سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ راجگوپال نے کیا کہا وہ اُن کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ تمام اُمور کے بارے میں 11 ڈسمبر کو بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو سے اتحاد کے سبب مہا کوٹمی کو نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگڑا پاٹی راجگوپال نے تلنگانہ تشکیل کی صورت میں سیاسی سنیاس لینے کا اعلان کیا تھا۔ رائے شماری کے بعد لگڑا پاٹی سروے سے بھی سنیاس لے لیں گے۔ انہوں نے فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی عدم موجودگی کے مسئلہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس کے کارکنوں نے بھی اس بات کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے ناموں کی شمولیت کی کوشش کی جائے گی۔ ریاست میں 73 فیصد رائے دہی تاریخی نوعیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج ٹی آر ایس کے حق میں یکطرفہ طور پر ہوں گے۔ ایگزٹ پول کے نتائج سے زیادہ ٹی آر ایس کو نشستیں حاصل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو رائے شماری میں آخری ووٹ کی گنتی تک چوکسی برقرار رکھنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی شکست کی وجوہات کے طور پر بہانے تلاش کررہی ہے اسی لئے اُتم کمار ریڈی نے ای وی ایم میں گڑبڑ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگڑا پاٹی راجگوپال نے پیش قیاسی کی تھی کہ تلنگانہ تشکیل نہیں ہوپائے گا لیکن تلنگانہ آج ایک حقیقت ہے۔ اسی طرح لگڑا پاٹی کا ایگزٹ پول سچ ثابت نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT