وائسرائے ہوٹل اور اس کے اطراف میں سونے سے زیادہ قیمتی اوقافی اراضی

حیدرآباد ۔ 20 جولائی (ابو اَیمل )ہوٹل وائسرائے جسے اب ’’میریئٹ ہوٹل ‘‘(Marriott Hotel)

حیدرآباد ۔ 20 جولائی (ابو اَیمل )ہوٹل وائسرائے جسے اب ’’میریئٹ ہوٹل
‘‘(Marriott Hotel)
کے نام سے جانا جاتا ہے، اوقاف کی ایسی اراضی پر ناجائز قبضے کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے جو شہر کا سب سے پاش علاقہ ہے اور یہاں کی اراضی سب سے زیادہ قیمتی سمجھی جاتی ہے، مگر مذکورہ ہوٹل کے اس ناجائز قبضہ کے حوالے سے وقف بورڈ کی جانب سے نوٹس جاری کئے جانے کے باوجود یہ مسئلہ آج تک جوں کا توں حالت میں ہے اور اس حوالے سے کوئی واضح تصویر تاحال سامنے نہیں آنے سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ قبل ازیں اِسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال نے 20 جنوری 2014ء کو میڈیا کو بتایا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ کے خلاف بہت جلد تخلیہ کی نوٹس جاری کی جائے گی چونکہ یہ ایک موقوفہ اراضی پر تعمیر کی گئی ہے۔ دراصل مذکورہ ہوٹل 2.18 ایکر موقوفہ اراضی پر غیرمجاز طریقے سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ اراضی 1940ء میں درج رجسٹرڈ وقف کی گئی تھی جہاں مسجد سلطان باغ، قبرستان دیارِ خاموش، درگاہ حضرت سید ابراہیم شریف اور قبرستان سجن لعل کباڑی گوڑہ، کٹہ حسین ساگر واقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قدیم سروے نمبرات 139، 140 اور 141 کے تحت یہ اراضی 4.04 ایکڑ اراضی تھی جبکہ نئے سروے نمبر 181 میں 1.24 گنٹے اور دوسرے سروے نمبر 182 کے تحت 2.20 گنٹے اراضی موقوفہ ہے جس کے منجملہ 2.18 ایکر اراضی پر ہوٹل میریئٹ کا قبضہ ہے۔ صدر مسجد سلطان باغ محمد خیرالحسن سے جب ہم نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ شیخ محمد اقبال اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے اپنی 6 ماہ کی میعاد کے دوران اس معاملے کو قانونی طریقے سے جس نہج پر پہنچایا ہے، اس پر مزید سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت کی ضرورت ہے۔ خیرالحسن صاحب نے مزید کہا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیردوراں ہے جس کا (OS) مقدمہ نمبر 13 ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ کی جانب سے وقف کی گئی اس اراضی کو حاصل کرنے میں اگر وقف بورڈ کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کی آمدنی سے ملت اسلامیہ کا ایک بڑا طبقہ مستفید ہوسکتا ہے۔ چونکہ اس علاقہ میں اراضی کی قیمت سونے کی قیمت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ ہوٹل میریئٹ کا مسئلہ ، پچھلے کئی برسوں سے متنازعہ بنا ہوا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے عرصہ دراز سے کوشش جاری ہے مگر سابق تلگو دیشم اور کانگریس حکومت اس مسئلہ کو ہمیشہ کی طرح برف دان کی نذر کرتی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹی آر ایس حکومت اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مذکورہ اراضی کو واپس حاصل کرتی ہے یا پھر سابقہ حکومتوں اور بدعنوان و بددیانت حکام کی طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT