Tuesday , September 25 2018
Home / دنیا / وائیٹ ہاؤس سے عہدیداران کا استعفیٰ ایک معمول

وائیٹ ہاؤس سے عہدیداران کا استعفیٰ ایک معمول

واشنگٹن ۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وائیٹ ہاؤس نے آج ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صدر کے انتظامیہ سے کسی اعلیٰ سطحی ْآفیسر کا ملازمت ترک کرکے چلے جانا معمول کی بات ہے اور اس پر تعجب کرنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ یاد رہیکہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ جن کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر وائیٹ ہاؤس میں ہی ہوا کرتا ہے، آج کل متعدد اعلیٰ سطحی عہدیداروں کے مستعفی ہونے کے بعد میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ ٹرمپ نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اب تک کم و بیش نصف درجن اعلیٰ سطحی عہدیدار مستعفی ہوکر وائیٹ ہاؤس چھوڑ چکے ہیں دریں اثناء وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یہ انکشاف اس وقت کیا جب انہیں یہ بتایا گیا کہ ملک کی تاریخ میں اب تک وائیٹ ہاؤس سے اتنے زیادہ اعلیٰ سطحی عہدیداران نے استعفیٰ نہیں دیا۔ اخباری نمائندوں نے ان سے سوال کیا کہ اگر ایسی صورتحال کو افراتفری والی صورتحال نہیں کہا جائے گا تو پھر کونسی صورتحال کہا جائے گا؟ سارہ سینڈرس نے کہا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہے جبکہ قبل ازیں ایسا نہیں تھا۔ ملازمتوں کا بھی کوئی فقدان نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے ہی سال میں بعض تاریخ ساز باتیں رونما ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر موصوف اس وقت کئی شخصیات کے ناموں پر غوروخوض کررہے ہیں اور وائیٹ ہاؤس سے اب تک جتنے بھی افسران جاچکے ہیں ان کی جگہ نئے تقررات کا فیصلہ کرنا ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے لئے انہیں وقت درکار ہے جن میں معاشی مشیر کی تقرری بھی شامل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ جس وقت ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تھا اس وقت ملک کی معیشت اتنی مستحکم نہیں تھی جتنی آج ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT