Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / وائیٹ ہاؤس میں افطار، دیوالی، کرسمس اور دیگر تقریبات کے انعقاد پر فخر : مشیل اوباما

وائیٹ ہاؤس میں افطار، دیوالی، کرسمس اور دیگر تقریبات کے انعقاد پر فخر : مشیل اوباما

امریکہ ہمہ تہذیبی و ثقافتی ورثہ، نفرت انگیز انتخابی مہمات شرمناک، نوروز کے موقع پر خطاب
واشنگٹن ۔ 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی خاتون اول مشیل اوباما نے بھی بالآخر امریکی صدارتی انتخابات کیلئے جاری انتخابی مہم کو انتہائی غیرمناسب انداز میں چلائے جانے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ تارکین وطن کا ملک ہے اور تکثریت ہمیشہ سے اس ملک کا طرہ امتیاز رہی ہے اور یہی امریکہ کی اصل طاقت ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں کل نو روز کی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یہی خوبی ہے کہ یہاں ہر مذہب اور فرقہ کے لوگ آباد ہیں۔ ہمیں الگ الگ تہذیبوں، زبانوں، تہواروں اور لباس کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم ایسا سوچتے ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے اور ایک طرف اگر جاریہ انتخابی مہمات کا جائزہ لیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آج منافرت اور شرانگیزی پھیلائی جارہی ہے تاہم لوگ یہ بات ہرگز نہ بھولیں کہ امریکہ کی تکثریت ہی اس کا اصل استحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات تقریباً اپنے سبھی قریبی دوستوں اور ایسے رشتہ داروں سے سن چکی ہیں جنہوں نے ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کا سفر کیا ہے۔ ممبئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہیکہ وہاں کثرت میں وحدت ہے۔ ویسے یہ بات ہندوستان کے بارے میں کہی جاتی ہے لیکن عملاً ہم اسے ممبئی میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ ہر ایک کی زبان الگ، پکوان الگ، لباس الگ، رسم و رواج الگ لیکن مقصد ایک۔ محنت کرنا اور کمانا۔ امریکہ میں بھی یہی حال ہے۔ یہاں محنت کرنے والوں کیلئے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے صدارتی انتخابات سے قبل ہی لوگ امریکہ سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔

امریکہ بھی تارکین وطن کا ملک ہے۔ یہاں دنیا کے ہر گوشہ سے آیا ہوا شخص مل جائے گا جو امریکہ کی ترقی میں اپنا رول ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا فخر ہے کہ وائیٹ ہاؤس میں مختلف تعطیلات کی تقریبات منائی جاتی ہیں۔ رمضان المبارک میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عیدین کے موقع پر، دیوالی، سینٹ پیٹرک ڈے، سنکو ڈی مایو، ایسٹر، کرسمس اور نو روز کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ نو روز کے موقع پر ہم اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کرتے ہیں اور ان لوگوں کو یاد کرتے ہیں جو آج ہمارے ساتھ نہیں۔ نو روز کے تہوار کا قبل ازیں وائیٹ ہاؤس میں اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم وائیٹ ہاؤس کی روایت میں اب نو روز کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ آج نو روز کے تہوار پر وہ اپنی دلی مبارکباد پیش کرتی ہیں کیونکہ اس تہوار کے ذریعہ ہم اپنے گذرے ہوئے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں اور آنے والے زمانے کیلئے کچھ عزائم کرتے ہیں۔ نو روز ایرانیوں کا اہم ترین تہوار ہے جو موسم بہار اور نئے سال کی آمد کی نوید لیکر آتا ہے۔ مشیل اوباما نے کہا کہ انہیں صدر موصوف کے ساتھ کئی ممالک کے دورہ کا موقع ملا اور کئی ممالک میں منعقد کئے گئے انتخابات کی تفصیلی رپورٹس کے مطالعہ کا بھی موقع ملا ہے لیکن کہیں بھی انتخابی مہمات کو اتنا نفرت انگیز نہیں پایا جتنا کہ اب کی بار وہ خود اپنے ملک میں دیکھ رہی ہیں جسے وہ امریکہ کیلئے المیہ تصور کرتی ہیں۔ امریکہ ہمیشہ سے ہمہ تہذیبی و ہمہ ثقافتی ورثہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اگر کچھ مٹھی بھر لوگ (ان کا اشارہ ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے حواریوں کی جانب تھا) امریکہ کی شناخت اور رواداری کو داغدار کرنا چاہتے ہیں تو اس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT