Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / وائیٹ ہاؤس کی دوڑ ’’ریالیٹی شو ‘‘ نہیں ، ٹرمپ کو اوباما کا سخت پیام

وائیٹ ہاؤس کی دوڑ ’’ریالیٹی شو ‘‘ نہیں ، ٹرمپ کو اوباما کا سخت پیام

امریکی صدارت کیلئے سنجیدگی لازمی، ماضی کے متنازعہ بیانات اور تبصروں کی جانچ ضروری ، ریپبلکن قیادت پر بھی تنقید
واشنگٹن ۔ 7 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ براک اوباما نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں جبکہ وہ ریپبلکن صدارتی امیدوار کے طورپر اُبھرے ہیں پہلی مرتبہ تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وائیٹ ہاؤس کی یہ دوڑ ’’ریالیٹی شو‘‘ نہیں ہے۔ انھوں نے متنازعہ ارب پتی کے ماضی کے ریکارڈ اور اُن کے بیانات کی کڑی جانچ کی ضرورت پر زور دیا۔ اوباما نے کہا کہ یہ کوئی تفریحی مقام نہیں ہے اور نہ کوئی ریالیٹی شو ہے ۔ یہاں امریکہ کی صدارت کیلئے مقابلہ ہونے جارہا ہے ۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ریپبلکن پارٹی کا اس وقت انتخابی عمل جاری ہے اور ٹرمپ کا جہاں تک تعلق ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف اُمور کا جائزہ لیا جائے اور بالخصوص اُن کے ماضی کے ریکارڈس پر نظر ڈالی جائے ۔ اُن کا ایک طویل ریکارڈ ہے جس کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں ٹرمپ نے جو بیانات دیئے ہیں اُن پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا زیادہ اہم ہے ۔ ڈونالڈم ٹرمپ گزشتہ ہفتے امکانی صدارتی امیدوار کے طورپر اُبھرے اور اس کے بعد اوباما کا یہ اُن کے بارے میں پہلا تبصرہ ہے ۔ انھوں نے مختلف متنازعہ تقاریر اور تجاویز کے ذریعہ نہ صرف کئی افراد کو اشتعال دلایا بلکہ نفرت انگیز ماحول تیار کیا ۔

انھوں نے کبھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر امتناع کی تجویز رکھی اور کبھی میکسیکو کے تارکین وطن کو یہاں سے دور رکھنے کیلئے دیوار تعمیر کرنے کی بات کی ۔ اس کے علاوہ ناٹو کیلئے امریکی فنڈس میں کمی کا بھی اعلان کیا ۔ اوباما نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں حقیقی اور سنجیدہ موضوعات کے بارے میں احساس ہونا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ بسا اوقات کئی اہم معاملات میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ ہر اُمیدوار کو جانچ پڑتال کے ایک معیار سے گذرنا ضروری ہے ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ کے بارے میں وہ کوئی جواب دیتے ہیں تو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں وہ ان پر کس قدر عمل کرسکتے ہیں۔ اس بارے میں عوام کی نبض جاننا ضروری ہے بالخصوص امریکی عوام کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ وہ جس امیدوار کی تائید کررہے ہیں اُس کا موقف کیا ہے ۔ اگر بین الاقوامی موضوعات پر امریکی موقف کا ذکر کیا جائے تو جنگ کے امکانی خطرات کا بھی اندازہ ہونا چاہئے ۔ ہمارے بعض ممالک کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح ہمارا معاشی نظام بھی مفلوج ہوسکتا ہے ، لہذا ان تمام اُمور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ اوباما نے کہاکہ انھیں اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ تقاریر اس نوعیت کی ہورہی ہیں گویا صرف بیان بازی مقصد ہے یا پھر کسی سرکس میں کرتب بازی ہورہی ہے ،یہ کوئی ایسا غیراہم مقابلہ نہیں ہے جسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران اوباما نے ریپبلکن قیادت پر بھی تنقید کی جس کی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ کو عروج ملا ۔ انھوں نے کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں ریپبلکن پارٹی میں داخلی مباحث بھی ہورہے ہیں کہ کسے نمائندگی دی جانی چاہئے ، لیکن اُن کا معیار اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو اس مقام تک انھوں نے پہونچادیا ۔ انھوں نے کہاکہ ریپبلکن عہدیدار ہی نہیں بلکہ ریپبلکن رائے دہندوں کی اب زیادہ اہمیت ہے اور اُنھیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ٹرمپ وہی شخص ہیں جو اُن کی اور اُن کے اقدار کی حقیقی معنیٰ میں نمائندگی کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT