Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / وائیٹ ہاؤس پر میزائل برسانے کی تیاری کریں، شمالی کوریا میں پوسٹرس آویزاں

وائیٹ ہاؤس پر میزائل برسانے کی تیاری کریں، شمالی کوریا میں پوسٹرس آویزاں

پیانگ یانگ ۔ 29 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پوسٹرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں جن پر امریکہ سے فیصلہ کن جنگ اور امریکی ایوانِ صدر یعنی وائیٹ ہاؤس پر ’’میزائلوں کی بارش‘‘ برسانے کا واضح اشارہ دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق ان پوسٹرز پر لکھا ہے کہ شمالی کوریا پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی تیاری کیجیے۔ پوسٹرز میں شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو زندہ جلاتے ہوئے اور کم عمر لوگوں کو کنویں میں پھینکتے ہوئے دکھایا ہے۔ شمالی کوریا کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ان پوسٹرز میں صاف لکھا ہوا ہے کہ امریکہ سے عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے جس میں وائیٹ ہاؤس پر میزائلوں کی بارش کی جائے گی۔ پوسٹروں میں 1950 کی دہائی میں جنگ کے دوران امریکی جارحیت اور امریکی مظالم کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے شمالی کوریا کی جانب سے پے در پے میزائل لانچنگ نے نہ صرف چین ، جاپان اور جنوبی کوریا کو فکرمند کیا ہے بلکہ سب سے زیادہ تشویش امریکہ کو لاحق ہوگئی ہے کیونکہ شمالی کوریا کا ادعا ہے کہ اس کے پاس امریکہ تک پہنچنے والے میزائلس موجود ہیں۔

 

خانگی ای میل کے استعمال کی وائیٹہاؤس
نے تحقیقات شروع کردی
واشنگٹن ۔ 29 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وائیٹ ہاؤس نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی افسران کی جانب سے سرکاری کام کاج کے لئے خانگی ای ۔ میل استعمال کئے جانے کی داخلی طور پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ وائیٹ ہاؤس کے سرور کی جانچ پڑتال کررہا ہے جسے خانگی ای ۔ میل حاصل کرنے اور روانہ کرنے استعمال کیا گیا۔ خصوصی طور پر ٹرمپ کے مذکورہ بالا قریبی افسران کے ذریعہ ۔ پالیٹیکو نے آج یہ اطلاع دی جس کے مطابق کم و بیش وائیٹ ہاؤس کے موجودہ اور سابقہ پانچ عہدیداروں نے سرکاری کام کاج انجام دینے کے لئے خانگی ای ۔ میل کا استعمال کیا جن میں ٹرمپ کے داماد اور مشیر جارڈ کوشنر، بیٹی ایوانکا، معاشی مشیر گیری کوہن، سابق اسٹریٹیجک مشیر اسٹیوبیانن اور سابق چیف آف اسٹاف رینس پرائبس شامل ہیں۔ پولیٹیکو نے مزید بتایا کہ کوشنر کے ذریعہ خانگی ای میل کے استعمال کا افشاء ہونے کے بعد جاریہ ہفتہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا جس کی تکمیل میں کئی ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT