Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس آر کانگریس ارکان پارلیمان کا استعفیٰ بی جے پی سے سمجھوتہ کے مترادف

وائی ایس آر کانگریس ارکان پارلیمان کا استعفیٰ بی جے پی سے سمجھوتہ کے مترادف

بی جے پی کا آندھراپردیش نشانہ ، چیف منسٹر اے پی چندرا بابو نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد /11 اپریل ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وائی ایس آر پارٹی ارکان پارلیمان ( لوک سبھا) پیش کردہ استعفی نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے انتقام لینے آندھراپردیش کو بی جے پی نشانہ بنارہی ہے ۔ آج وجئے واڑہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی پر اپنی برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ ریاستی مفادات کے معاملہ میں تلگودیشم حکومت کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا بی جے پی کو اندازہ ہوجانے کی وجہ سے ہی کیس پائے جانے والے وائی ایس آر کانگریس کے قائدین کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اپنے ساتھ شامل کرلیا اور اس طرح انہیں اپنے ساتھ رکھ لینے پر ہی صدر وائی ایس آر کانگریس ، جگن موہن ریڈی کو اپنی گرفت میں رکھ لینے کا بی جے پی منصوبہ رکھتی ہے ۔ بی جے پی کے انتقامانہ رویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ محض انتقام لینے کیلئے ہی کرپشن و بے قاعدگیوں میں ملوث پائے جانے والے قائدین کی زیر قیادت پارٹی کو اپنے ساتھ شامل کرلینے کا ریاستی عوام اپنے نظر میں رکھے ہوئے ہیں اور ان تمام سرگرمیوں کا سنجیدگی کے ساتھ ریاست کے عوام جائزہ لے رہے ہیں ۔ ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے کے مطالبہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیام گاہ کا محاصرہ ( گھیراؤ ) کرکے بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرنے کا اعزاز صرف اور صرف تلگودیشم ارکان پارلیمان کو ہی حاصل ہے ۔ بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کو ہدف ملامت بناتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ محض کرناٹک میں منعقد ہونے والے مجوزہ انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’’کاویری بورڈ ‘‘ تشکیل دئے بغیر اناڈی ایم کے ارکان سے پارلیمنٹ میں گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کرواکر پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی کروائی گئی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ کسی بھی نوعیت کی جدوجہد اور قربانیوں کیلئے تیار ہیں ۔ مسٹر چندرا بابونائیڈو نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ریاست آندھراپردیش کی 25 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ہی اپنا اہم مقصد ہے تاکہ اپنی بات سننے والی اور اپنے مسائل کی یکسوئی کرنے والی مرکزی حکومت تشکیل دی جاسکے گی اور اس حکومت کے ذریعہ ریاست آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف حاصل کیا جاسکے گا ۔ مسٹر چندرا بابو نے مرکزی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت نے چوتھے بجٹ میں بھی آندھراپردیش کے ساتھ ناانصافی کی اور امرواتی کو ترقی دینے کا وعدہ کرنے پر ہی بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کی اور حکومت میں بھی شامل ہوئے ۔ علاوہ ازیں خصوصی موقف کے مساوی پیاکیج دینے کا واضح تیقن دینے پر ہی اس تیقن سے اور وعدے سے اتفاق کیا گیا ۔ لیکن کسی وعدے و تیقن کو مرکزی حکومت نے پورا نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT