Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس آر کانگریس ایم پیز کا آج لو ک سبھا سے استعفیٰ

وائی ایس آر کانگریس ایم پیز کا آج لو ک سبھا سے استعفیٰ

نریندر مودی اور چندرا بابو نائیڈو پر آندھرا پردیش عوام سے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام
نئی دہلی 5 اپریل ( پی ٹی آئی ) وائی ایس آر کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ نے آج اعلان کیا کہ وہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے میں مرکزی حکومت کی ناکامی کے خلاف کل لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ اس لئے بھی برہم ہیں کیونکہ این ڈی اے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق ان کی نوٹسوں پر بھی ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے مباحث نہیں ہوسکے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی تھی کیونکہ یہ حکومت آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفوں کے مکتوب کل بجٹ سشن کے آخری دن اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کو پیش کردینگے ۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ورا پرساد ویلگا پلی نے کہا کہ استعفوں کے مکتوب مناسب فارمٹ میں ہونگے ۔ ضمنی انتخابات کے انعقاد کیلئے کافی وقت ہے ۔ ہم انتخابات میں مقابلہ کرینگے اور خصوصی زمرہ کیلئے اپنے مطالبہ کو برقرار رکھیں گے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر جمہوریت کا احترام نہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دونوں ہی قائدین آندھرا پردیش کے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس نے 12 مرتبہ تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی تھی لیکن ایک مرتبہ بھی اس پر مباحث نہیں ہوسکے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے فبروری میں اعلان کیا تھا کہ اگر ریاست کو خصوصی موقف نہیں دیا جاتا ہے کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کے آخری دن مستعفی ہوجائیں گے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے بعد تلگودیشم نے بھی حکومت کے خلاف عدم اعتماد تحریک کی نوٹس دی تھی ۔ تلگودیشم نے اس مسئلہ پر این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ اس کے بعد تلگودیشم صدر و چیف منسٹر اے پی نے کئی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی تھی تاکہ تحریک عدم اعتماد پر تائید حاصل کی جاسکے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے ایک اور ایم پی ایم راجہ موہن ریڈی نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو عوام کے دباؤ کی وجہ سے یہ مسئلہ اٹھا رہے ہیں اور ان کے پاس این ڈی اے سے علیحدگی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا ۔وائی ایس آر کانگریس کی وجہ سے تلگودیشم پر دباؤ میں اضافہ ہوا تھا ۔ وائی ایس آر کانگریس اور بی جے پی میں ساز باز کے الزام پر انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بی جے پی کا اتحاد تلگودیشم سے تھا ۔

TOPPOPULARRECENT