Sunday , July 22 2018
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس آر کانگریس کے ارکان پارلیمان کے استعفیٰ کا فیصلہ مضحکہ خیز

وائی ایس آر کانگریس کے ارکان پارلیمان کے استعفیٰ کا فیصلہ مضحکہ خیز

جگن موہن ریڈی کا نیا ڈرامہ ، وزیراے پی کے اچن نائیڈو کا ردعمل
حیدرآباد /14 فروری ( سیاست نیوز ) وزیر آندھراپردیش مسٹر کے اچن نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کیلئے قائد اپوزیشن قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی اپنے ارکان پارلیمان سے استعفی پیش کروانے کا اعلان کرکے ایک نیا ڈرامہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جگن کے اس اعلان کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اگر ریاست کو خصوصی موقف نہ دینے پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمان لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دینے کا سال 2016 میں جگن موہن ریڈی نے اعلان کیا تھا اور اس اعلان کے بعد تین مرتبہ مرکزی بجٹ پیش کیا گیا ۔ اس پر انہوں نے سوال کیا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمان استعفی کیوں پیش نہیں کئے ۔ آج ریاستی سکریٹریٹ امراوتی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اچن نائیڈو نے وائی ایس جگن موہن ریڈی سے استفسار کیا کہ آیا مرکزی بجٹ میں ریاست کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی تو وائی ایس آر کانگریس پارٹی رکن پارلیمان مسٹر وجئے سائی ریڈی نے کس بنیاد پر دہلی میں مرکزی بجٹ کو بہتر اور اچھا بجٹ ہونے کی ستائش کی تھی ۔ وزیر نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی ارکان پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمان دہلی میں ایک بات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تلگودیشم نے ریاست کیلئے خصوصی موقف کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے بہت ہی بہتر پیاکیج دینے کا وعدہ کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی ۔ مسٹر اچن نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے دریافت کیا کہ آیا وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی سے چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو ڈرنے کی آخر کیا ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ البتہ مسٹر جگن موہن ریڈی کو وزیر اعظم سے ڈرنے کی شدید ضرورت ہے۔ کیونکہ انہیں دوبارہ جیل بھیج دئے جانے کا خدشہ ضرور لاحق ہے اور ریاستی عوام بھی مسٹر جگن موہن ریڈی خواہ کتنے ہی نئے حربے استعمال کریں ۔ ان پر بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں ۔ وزیر نے مزید کہا کہ 5 مارچ کے بعد غیر متوقع فیصلے سامنے آئیں گے اور ریاستی مفادات و حقوق کیلئے پیچھے مڑکر دیکھے بغیر زبردست جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا ۔ مسٹر اچن نائیڈو نے سخت الفاظ میں کہا کہ ریاست میں برسر اقتدار اور اپوزیشن دونوں ہی رول ہم کو ہی ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لہذا ریاست کے ساتھ انصاف نہ ہونے کی صورت میں مناسب وقت پر ہم خود مناسب اور صحیح فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جگن موہن ریڈی کو اپوزیشن کا رول ادا کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔ صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر نے قائد اپوزیشن و صدر وائی ایس آر کانگریس کی جانب سے ارکان پارلیمان سے استعفی پیش کروانے سے متعلق گذشتہ دن کئے ہوئے اعلان پر آج صبح امراوتی میں دستیاب کابینی رفتار سینئیر پارٹی قائدین وغیرہ کے ساتھ ایک اجلاس طلبہ کرکے سیاسی صورتحال جائزہ لیا تھا ۔ اس اجلاس کے فوری بعد ہی مسٹر کے اچن نائیڈو اور چندرا موہن ریڈی وزراء نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی موقف سے واقف کروایا ۔

مرکزی بجٹ سے چندرا بابو کی وقافیت کے باوجود نیا دھونگ
چیف منسٹرکی لاعلمی پر اظہار حیرت ، وائی ایس آر کانگریس رکن اسمبلی روجا کا بیان
حیدرآباد /14 فروری ( سیاست نیوز ) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی قائد و رکن اسمبلی اے پی قانون سازاسمبلی شریمتی روجا نے چیف منسٹر آندھرآپردیش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مرکزی حکومت کے پیش کرہ بجٹ سے متعلق پیشکشی سے قبل ہی مکمل معلومات رکھتے ہوئے کچھ بھی معلومات نہ رکھنے کا مسٹر چندرا بابو نائیڈو نیا ڈھونگ کر رہے ہیں ۔ آج ضلع نیلور کے منڈل میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شریمتی روجا نے کہا کہ مرکزی کابینہ میں تلگودیشم کے وزراء کی موجودگی کے باوجود بجٹ کی تفصیلات سے مسٹر چندرا بابونائیڈو لاعلمی کا اظہار کرنا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو محض اپنے چند ذاتی مفادات کی خاطر ریاست کو حاصل ہونے والے خصوصی موقف کو مرکز کے پاس رہن رکھ دیا ۔ رکن اسمبلی وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مزید کہا کہ ہر چھوٹی بات پر مسٹر چندرا بابو نائیڈو میڈیا کے روبرو آنے والے آج مرکزی بجٹ کے کئی دن گذر جانے کے باوجود مرکزی بجٹ پر راست میڈیا سے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی تعمیر کرنے اور بیرونی ممالک سے کروڑہا روپئے آنے کی بڑی بڑی باتیں کرکے مرکز سے ریاست کو حاصل ہونے والے فنڈز کیلئے رکاوٹ پیدا کی اور ریاست میں بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ کی ہوئی دولت کو محفوظ کرلینے کیلئے ہی مسٹر چندرا بابو نائیڈو بیرونی دوروں پر اپنی روانگی کو اولین ترجیح دے رہے ہیں ۔ شریمتی روجانے وارڈ ممبر کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کا موقف نہ رکھنے والے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر لوکیش کے اس بیان کا مذاق اڑایا کہ امریکہ میں تلگودیشم پارٹی کو مستحکم بنایا جائے گا ۔

 

TOPPOPULARRECENT