Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس آر کانگریس کے مزید دو ارکان تلگودیشم میںشامل ہونے تیار

وائی ایس آر کانگریس کے مزید دو ارکان تلگودیشم میںشامل ہونے تیار

جے نہرو اور وی سبا راؤ کی کھلی بغاوت ۔ حامیوں کے جذبات کا احترام کرنے کا اعلان
وجئے واڑہ 27 مارچ ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس کے دو ارکان اسمبلی بشمول اسمبلی میں اس کے ڈپٹی لیڈر جے نہرو نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے برسر اقتدار تلگودیشم میں شامل ہونے تیار ہیں۔ نہرو جگم پیٹ اسمبلی حلقہ کی اور دوسرے رکن اسمبلی وی سبا راؤ پراتی پاڈو حلقہ اسمبلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وائی ایس آر کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے اور اپنے حامیوں کی خواہشات کے مطابق کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ رامپا چوڈاورم قبائلی حلقہ سے پہلی مرتبہ منتخب رکن اسمبلی وی راجیشوری بھی وائی ایس آر کانگریس سے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرنے تیار ہیں تاہم اس تعلق سے انہوں نے خود کچھ نہیں کہا ہے ۔ یہ تمام تینوں ارکان اسمبلی مشرقی گوداوری ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاحال وائی ایس آر کانگریس کے 67 ارکان اسمبلی میں سے آٹھ نے انحراف کرتے ہوئے تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ اگر یہ تینوں ارکان اسمبلی بھی وائی ایس آر کانگریس سے انحراف کرلیتے ہیں تو ایسا کرنے والے ارکان کی تعداد 11 ہوجائیگی ۔ مشرقی گوداوری ضلع کی 19 اسمبلی نشستوں میں 2014 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کو تین چار حلقوں سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اگر جے نہرو تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں تو یہ ان کی گھر واپسی ہوگی جو دو دہوں تک تلگودیشم میں رہے تھے اور پارٹی کے ٹکٹ پر دو مرتبہ رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ جے نہرو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدر نشین کا عہدہ نہ دینے پر ناراض ہیں ۔ یہ عہدہ بھوما ناگی ریڈی کی تلگودیشم میں شمولیت کے بعد خالی ہوا تھا ۔ وائی ایس آر کانگریس صدر جگن موہن ریڈی نے تاہم اس عہدہ کیلئے پہلی مرتبہ کے رکن اسمبلی بی راجیندر ناتھ ریڈی کو منتخب کیا تھا ۔ نہرو کے موقف کو دیکھتے ہوئے جگن نے چندرا گیری کے رکن اسمبلی چیوی ریڈی بھاسکر ریڈی کو جگم پیٹ روانہ کیا ہے تاکہ وہ نہرو کو سمجھا سکیں۔ تاہم سمجھا جاتا ہے کہ نہرو نے چیوری ریڈی یا خود جگن سے بھی بات چیت سے انکار کردیا ہے ۔ نہرو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کے جذبات کا احترام کرینگے اور جو کچھ وہ وہیں گے وہ ویسا ہی کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT