Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی تصویر حکومت آندھرا پردیش کے پاس محفوظ

وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی تصویر حکومت آندھرا پردیش کے پاس محفوظ

اسمبلی میں تصاویر کی تنصیب پر روایت و طریقہ کار پر عمل ، چیف وہپ کے سرینواس کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : گورنمنٹ چیف وہپ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر کے سرینواس نے کہا کہ اسمبلی میں کسی ممتاز شخصیت یا قائدین کی تصویر لگانے کے لیے بعض روایات و طریقہ کار پایا جاتا ہے اور کمیٹی ہال میں ممتاز قائدین و شخصیتوں کی تصویر لگانے کے لیے ایوان کی ایک جنرل کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے تاکہ یہ کمیٹی تمام سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کر کے اسپیکر اسمبلی کے اتفاق رائے سے فیصلے لینے کی روایت و طریقہ کار پایا جاتا ہے اور ایسے اقدامات کے کئی واقعات ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش اسمبلی میں الوری سیتا راما راجو جیسی شخصیت کی قد آور پورٹریٹ تصویر لگانے کے موقع پر بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کے سرینواس نے بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے موقعہ پر آندھرا پردیش ریاست کے لیے عارضی راجدہانی کی حیثیت سے شہر حیدرآباد کو دس سال تک رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلی میں کچھ حصہ کو آندھرا پردیش کے لیے الاٹ کیا گیا اور بتایا کہ اس طرح کی تقسیم کے دوران ممتاز قائدین پوٹی سری راملو ٹنگٹوری پرکاشم پنتلو جیسی ہستیوں کی قد آور تصاویر تلنگانہ اسمبلی کے حصہ میں آئے تھے جس کے باعث تلنگانہ اسمبلی عہدیداروں نے ان ہستیوں کی قد آور تصاویر نکال دئیے اطلاع ملنے پر آندھرا پردیش اسمبلی عہدیداروں نے ان قدآور تصاویر کو حاصل کر کے انہیں محفوظ کردینے کا چیف وہپ نے انکشاف کیا اور کہا کہ اس طرح اسمبلی میں پائے جانے والے قد آور تصاویر نکالنے لگانے اور انہیں محفوظ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ لہذا اسی طرح انتہائی خستہ حالت میں پائی جانے والی ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قد آور تصویر بھی آندھرا پردیش اسمبلی عہدیداروں نے نکال کر محفوظ کردیا اور اس بات کا بتنگڑ بناکر وائی ایس آر کانگریس پارٹی واویلا مچارہی ہے ۔ مسٹر کے سرینواس گورنمنٹ چیف وہپ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے طرز عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قد آور تصویر اسمبلی کے احاطہ میں 8 جولائی 2010 میں آویزاں کی گئی اور اس موقع پر کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی تھی بلکہ جانبدارانہ فیصلہ کر کے کسی مشورہ کے بغیر اسمبلی میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قد آور تصویر آویزاں کردی گئی تھی جس سے ہر کوئی سیاسی جماعت بخوبی واقف ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT