Tuesday , September 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / واجب قربانی کو ترک کرنا محرومی کا سبب ہے

واجب قربانی کو ترک کرنا محرومی کا سبب ہے

حافظ سید شاہ مدثر حسینی

حافظ سید شاہ مدثر حسینی

فصلّ لربک وانحر: اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے (سورۂ کوثر ) مذکورہ بالا آیت مقدسہ میں اللہ تعالی نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیا ہجرت کے بعد د س سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا اور ہرسال قربانی فرماتے رہے ۔( ترمذی ج ۱ )روایتوں میںآتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا تو سو اونٹوں کی قربانی کی جن میں سے ترسٹھ اُونٹ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دست مبارک سے نحر فرمائے باقی اونٹوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا۔ (صحیح مسلم)
قربانی ایک اہم مالی عبادت ہے اور شعائر اسلام میں سے ہے اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔قربانی کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہیں قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن جانوروں کے بدن پر اون ہے تو اس اون کا کیا حکم ہے؟ اس پر بھی کچھ ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے(سنن ابن ماجہ) غور کیجئے ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہوگا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جائیں ،بھیڑ اور دُنبے کے بدن پر لاتعداد بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک گننا چا ہے تو بھی نہیں گن سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ قربانی کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ہر بال کے عوض میں ایک نیکی ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قربانی بہت بڑا عمل ہے اور قربانی کے ایام میں اللہ تعالی کو قربانی کرنے سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔
قربانی کرتے وقت خون کا جو پہلا قطرہ زمین پرگرتا ہے تو گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے پاس مقبول ہوجاتا ہے۔قربانی واجب ہونے کے بعد ترک کرنا بہت بڑی بد نصیبی اور نیکی سے محرومی کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب ہے ۔قربانی کی فضیلت میں اور بہت سی روایات آئی ہیں،ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کے کھر ، بال اور سینگ قیامت کے دن نامئہ اعمال میں نیکیوں میں شامل ہوں گے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ احادیث میں یہ بھی ہے کہ قربانی کا جانور قیامت کے دن سواری کے لئے لایا جائے گا ، اور پل صراط کی سواری ہو گی ( مر ء اۃ المناجیح ج ۲ ) ۔دیگر عبادت کا عمل کرنے کے بعد ثواب ملتا ہے ،اور قربانی کا ثواب، ابھی عمل بھی پورا نہیں ہوتا ،بلکہ ادھر عمل شروع ہوا کہ ادھر لکھ دیا جاتا ہے، اور ہر بال کے بدلے نیکی حتی کہ اون کے بکروں کی قربانی دیں تو اس بکرے کے بالوں کے حساب سے ثواب ملتا ہے۔ جس طرح قربانی دینے والے کو زیادہ ثواب ملتا ہے اس طرح اگر کوئی صاحب نصاب ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اس کا گناہ ہوتا ہے کیونکہ قربانی واجب ہے اور ترک واجب، گناہ کبیرہ ہے ، نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو سخت وعید سنائی ہے ۔
حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے پاس قربانی کرنے کی گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے ۔حدیث شریف میں قربانی نہ کرنے والوں کیلئے یہ بہت بڑی وعید ہے کیونکہ عیدگاہ کو عید کی نمازپڑھنے کیلئے مسلمان جاتے ہیں ،اور جو مسلمان نہیں وہ عید گاہ سے دور رہتے ہیں ،یہ بہت سخت وعید ہے کہ مسلمان ہو اور گنجائش بھی ہو اور قربانی نہ دے ،یہ نہایت بد بختی ہے جس طرح عید کی نماز ہر مسلمان مرد عاقل وبالغ پر واجب ہے اسی طرح ہر صاحب نصاب مسلمان مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔٭

Top Stories

TOPPOPULARRECENT