Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / واجپائی نے ٹیلیفون پر نواز شریف سے دلیپ کمار کی بات کروائی تھی

واجپائی نے ٹیلیفون پر نواز شریف سے دلیپ کمار کی بات کروائی تھی

’’میاں صاحب، ہمیں آپ سے یہ توقع نہیں تھی‘‘ : کارگل جنگ پر دلیپ کمار کا مکالمہ
خورشید قصوری کی کتاب ’’نہ عقاب اور نہ فاختہ‘‘ میں انکشاف

لاہور ۔ 7 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم ہند اٹل بہاری واجپائی نے کارگل جنگ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے شکایت کی تھی کہ ان کے (واجپائی) ساتھ غیرمناسب رویہ روا رکھا گیا اور اس کے بعد انہوں نے اس وقت بالی ووڈ کے عظیم ترین اداکار شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے بات بھی کروائی تھی۔ ایک نئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ مئی 1999ء میں کارگل جنگ کے وقت بھی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف ہی تھے اور ان کے سابق پرنسپل سکریٹری سعید مہدی کے ذریعہ کئے گئے ایک تبصرہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خورشید قصوری کہتے ہیں کہ سعید صاحب نے بتایا کہ ایک دن وہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی جس پر اے ڈی سی نے انہیں بتایا کہ دوسری طرف لائن پر وزیراعظم ہند اٹل بہاری واجپائی ہیں جو ان سے (شریف) فوری بات کرنے کے خواہاں ہیں۔ قصوری نے اپنی کتاب نائد راے ہاک نار اے ڈو (نہ تو عقاب اور نہ ہی فاختہ) میں اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی نے نواز شریف سے شکایت کی کہ جب وہ (بہادری) لاہور کے دورہ پر آئے تھے تو ان کا شایان شان استقبال نہیں کیا گیا۔ یہ سن کر نواز شریف ششدر رہ گئے۔ واجپائی کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف لاہور میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا وہیں دوسری طرف پاکستان نے کارگل پر حملہ کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ کیا یہ دوغلی پالیسی نہیں ہے؟ نواز شریف کا استدلال تھا کہ وہ واجپائی صاحب کی بات سمجھ ہی نہیں سکے اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے بات کرنے کے بعد واجپائی جی سے دوبارہ بات کریں گے۔ قبل اس کے کہ بات چیت اختتام کوپہنچتی، واجپائی نے نواز شریف سے کہا کہ وہ ایک ایسے شخص سے ان کی (شریف) بات چیت کروانا چاہتے ہیں جو اس وقت واجپائی کے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ جب نواز شریف کو دوسری طرف سے فون پر ہیلو اور السلام علیکم کی آواز آئی تو وہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ بالی ووڈ کے کوہ نور دلیپ کمار کی تھی جن کا اصلی نام یوسف خان اور جن کا پیدائشی مقام پشاور (پاکستان) تھا۔ دلیپ کمار نے سلام کے فوری بعد کہا کہ میاں صاحب! ہم آپ سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے (کارگل پر حملہ کی) کیونکہ آپ تو ہندوپاک کے درمیان امن کے قیام کی ہمیشہ سے ہی تائید کرتے آئے ہیں۔ مسٹر قصوری نے اپنی کتاب میں یہ واقعہ قلمبند کیا ہے۔ دلیپ کمار نے مزید کہاکہ ایک ہندوستانی مسلم ہونے کے ناطے انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جب جب ہندوپاک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے تو ہندوستانی مسلمان خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگتے ہیں اور یہاں تک کہ اپنے مکانات سے باہر نکلنے میں بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے کچھ کیجئے۔ پاکستان کا اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ نشان پاکستان حاصل کرنے والے دلیپ کمار نے دو ٹوک لہجہ میں نواز شریف سے یہ بات کہہ دی۔ قصوری نے دلیپ کمار کے اس تبصرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ صاحب جیسی مشہور و معروف شخصیت جب خود کو غیرمحفوظ سمجھ سکتی ہے تو عام ہندوستانی مسلمانوں کی مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT