Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / واحد نگر میں ہائی ٹنشن برقی تار کی زد میں آکر دو کمسن طلبا شدید زخمی

واحد نگر میں ہائی ٹنشن برقی تار کی زد میں آکر دو کمسن طلبا شدید زخمی

حیدرآباد 13 فروری (سیاست نیوز) برقی انسانی زندگی میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور برقی کے بغیر زندگی مشکل اور بے نور ہوجاتی ہے لیکن شہر کے ملک پیٹ میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں برقی زندگی میں روشنی نہیں بلکہ اندھیرا ثابت ہورہی ہے ۔ انسانی زندگیوں میں تاریکی کا سبب بن رہی ہے۔ جی ہاں مقامی عوام کے مطابق سیاسی قائدین کی آس اور سرکاری محکموں کی پیاس شہریوں کیلئے موت کا فرمان ثابت ہورہی ہے۔ ان دنوں واحد نگر علاقہ کے عوام عجیب خوف کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ آج پیش آئے ایک خوفناک واقعہ میں دینی مدرسہ کے دو کمسن طلبہ برقی شاک کی زد میں آکر شدید جھلس گئے جن کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ برقی کے ہائی ٹینشن تار سے متاثر ان لڑکوں کو کارپوریٹ ہاسپٹل نے علاج کی غرض سے شریک کرنے سے انکار کردیا۔ یہ فی الحال عثمانیہ ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ اولڈ ملک پیٹ واحد نگر میں واقع ایک دینی مدرسہ کے طلبہ 10 سالہ محمد دانش اور شفیع مدرسہ کے باہر کھیل میں مصروف تھے کہ وہ برقی ہائی ٹینشن تار کی زد می آکر شدید زخمی ہوگئے۔ اس علاقہ میں جو موسیٰ ندی سے متصل ہے، برقی کا ہائی ٹینشن تار گزرتا ہے۔ اس علاقہ سے گزرنے والے اس تار کی اونچائی تشویش ناک حد تک کم ہے۔ عوام میں آج کے واقعہ کے بعد شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان برقی تاروں کی اونچائی چادرگھاٹ پولیس اسٹیشن کے قریب زمین سے 50 فٹ اونچائی پر ہے تو وہی اونچائی واحد نگر میں 10 فٹ پر ہے ۔ 33 کے وی کے ان تاروں کو انتہائی خطرناک مانا جاتا ہے اور اس کے قریب سے نہ گزرنے کا انتباہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں آج کا واقعہ نئی بات نہیں بلکہ سابق میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ مقامی سماجی کارکنوں اور عوام کا الزام ہے کہ سیاسی قائدین کی لاپرواہی و سرکاری محکموں کی مجرمانہ غفلت نے واحد نگر کے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا ہے۔ موسیٰ ندی میں مٹی اور ملبے کو ڈال کر اس کی گہرائی کو متاثر کیا گیا اور ناجائز قبضوں کے ذریعہ اونچائی بڑھادی گئی جو اب شہریوں کیلئے خطرناک ثابت ہورہی ہے اور غریب ہی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ شدید زخمی دانش اور شفیع کا تعلق بہار سے بتایا گیا ہے جو واحد نگر کے مدرسہ میں زیرتعلیم تھے۔ انسپکٹر چادرگھاٹ مسٹر ستیہ اپا نے بتایا کہ دونوں لڑکوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکے کھیل کے دوران برقی شاک کی زد میں آگئے تھے۔ پولیس نے انھیں علاج کے لئے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا اور مصروف تحقیقات ہے۔

TOPPOPULARRECENT