Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / وادی میں ہاسپٹل کے باہر پلیٹ گن سے زخمی نوجوان کی نعش دستیاب

وادی میں ہاسپٹل کے باہر پلیٹ گن سے زخمی نوجوان کی نعش دستیاب

عوام کا احتجاجی مظاہرہ، کئی علاقوں میں کرفیو، پلوامہ میں بھی نوجوان ہلاک اور کئی زخمی
سرینگر 3 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر کے مزید کئی علاقوں میں آج احتیاطی اقدام کے طور پر کرفیو میں توسیع دی گئی ہے جبکہ ہاسپٹل کے باہر پلیٹ گن سے زخمی ایک نوجوان کی نعش برآمد ہوئی جس پر عوامی احتجاج کیا گیا۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایس ایم ایچ ایس ہاسپٹل کے باہر ریاض احمد کی نعش دستیاب ہوئی جس کے پیٹ میں کافی بڑا سوراخ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ابتداء میں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ موت کس طرح ہوئی لیکن ایکسرے میں جسم کے اندر پلیٹ کی موجودگی دکھائی گئی۔ نعش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ہے۔ لیکن رپورٹ آنے تک مزید چند دن درکار ہوں گے۔ نوجوان کی موت کے ساتھ ہی باگیاز اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں آج صبح سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر وادی کے مزید علاقوں میں کرفیو میں توسیع کردی۔ کل ضلع پلواما کے لیتھ پورہ میں عوام احتجاج کے باعث ایک نوجوان کی ہلاکت اور دیگر کئی زخمی ہونے کی بناء حکام نے کرفیو میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرانے شہر کے پانچ پولیس اسٹیشن حدود میں پہلے ہی کرفیو برقرار ہے

اور لاء اینڈ آرڈر کی برقراری کے لئے اسے شہر کے دیگر علاقوں باٹاملو، شہید گنج، سورا، زبیداں، قمر واڑی اور بمینا میں بھی توسیع دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ضلع بارہمولہ کے خان پورہ علاقہ، ضلع پلواما کے اوانتی پورہ اور پامپورہ میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ٹاؤن میں پہلے سے کرفیو برقرار ہے۔ کشمیر کے مابقی حصہ میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ وادی میں آج 26 ویں دن بھی عام زندگی بُری طرح متاثر رہی۔ علیحدگی پسند گروپس نے 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسیس اور عوام کے مابین جھڑپوں میں شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال جاری رکھی ہے۔ اسکولس، کالجس، تجارتی ادارے، بینکس اور خانگی دفاتر آج بھی بند رہے۔ سڑکوں پر سرکاری گاڑیاں نہیں چلائی گئیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری دفاتر میں حاضری بھی بہت کم رہی۔ ساری وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات ہنوز بند ہیں۔ صرف پوسٹ پیڈ موبائیل ٹیلی فون خدمات کو بحال کیا گیا ہے۔

پری پیڈ کنکشن پر اِن کمنگ کالس کی سہولت فراہم ہے لیکن آؤٹ گوئنگ کالس مسدود کردیئے گئے ہیں۔ علیحدگی پسند گروپس نے کشمیر میں جاری ہڑتال کو 5 اگسٹ تک توسیع دی ہے اور جمعہ کو درگاہ حضرت بلؒ تک مارچ کا اعلان کیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بابا رام کل رات اپنی سرکاری گاڑی میں جموں کی طرف جارہے تھے کہ کولیتا پورہ کے مقام پر احتجاجی نوجوانوں نے اُنھیں روک دیا۔ وہ علاقہ میں سکیورٹی فورسیس کی زیادتیوں اور نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ جیسے ہی یہ نوجوان گاڑی کے قریب پہونچے رام بابا رام کے سکیورٹی آفیسر ستیش کمار نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں ایک شہری ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سہیل احمد وانی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ فائرنگ کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو نذر آتش کردیا۔

TOPPOPULARRECENT