Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / وادی کشمیر اور سکیوریٹی فورسس

وادی کشمیر اور سکیوریٹی فورسس

مرے گوشۂ جگر میں ہیں کئی دعائیں لیکن
جسے تو قبول کرلے وہ دعا کہاں سے لائوں
وادی کشمیر اور سکیوریٹی فورسس
کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ سمجھنے والی حکومت آیا اس ریاست کے ساتھ دیگر ہندوستانی ریاستوں کی طرح برتائو کررہی ہے؟ یہ سوال اب اس لئے بھی نازک بن گیا ہے کیوں کہ گزشتہ 3 دن سے وادی کشمیر سکیوریٹی فورسس اور کشمیری احتجاجی عوام کے درمیان میدان جنگ بنتی جارہی ہے جب کبھی سکیوریٹی فورسس نے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی موت واقع ہوتی ہے تو ردعمل کے طور پر کشمیری عوام کا احتجاج اور سڑکوں پر نکل آنا متوقع بات ہوتی ہے۔ مگر اس سے نمٹنے کے لئے سکیوریٹی فورسس اور پولیس کا طرز عمل ہر مرتبہ بڑا سنگین مسئلہ پیدا کرتا رہا ہے۔ وادی کشمیر کے تعلق سے ہندوستانی سیاست کا درجہ کس سطح پر دکھائی دیتا ہے یہ عوام کی اکثریت سمجھ سکتی ہے۔ جمعہ کے دن سکیوریٹی فورسس نے ایک 22 سالہ کشمیری انتہاپسند لیڈر برہان ورنی کو ہلاک کردیا اس واقعہ کے خلاف پورے کشمیر میں سوگ منایا گیا۔ دعائیہ اجتماعات منعقد کئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی احتجاج کی لہر بھڑک اٹھی اور سکیوریٹی فورسس کے ساتھ جھڑپ میں 17 شہریوں کو گولی ماردی گئی۔ تشدد پھیلتا گیا اور سکیوریٹی فورسس کی بندوقیں گولیاں برساتی رہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ کشمیری عوام کو ہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کہ سکیوریٹی فورسس ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتی ہیں۔ وادی کشمیر کے حالات کو نازک بنانے والے عوامل سے گریز نہیں کیا جاتا۔ وادی کشمیر کا کوئی بھی شہری اگر کشمیری مجاہدین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے تو دہلی تک اس کی مذمتی آواز اٹھتی ہے۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو بھی یہی کہتے ہیں کہ آخر عوام ایک دہشت گرد کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے واقعہ کو بھی قابو میں کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ صورتحال کو سنگین ہونے سے روکنے کے لئے متبادل طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے مگر ہمیشہ یہاں نیم فوجی دستوں، پولیس یا فوج کی زیادتیوں کی شکایات کو نظر انداز کرکے تشدد کو نیا موڑ دینے والی کارروائی کی جائے تو حالات بے قابو ہوجاتے ہیں۔ وادی میں کشیدگی کا پیدا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اصل مسئلہ کشیدگی کو روکنا ہے اس کے بجائے احتجاجیوں پر فائرنگ کرکے جانوں کا اتلاف کرنے اور حالات کو نازک بنانے سے مزید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔ وادی کشمیر کے 10 اضلاع میں اگر تشدد بھڑک رہا ہے تو اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان اضلاع میں تعینات دو لاکھ سے زائد سپاہی ، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس ملازمین کو وادی کے عوام کی جان و مال کی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کشمیر میں تعینات سکیوریٹی فورسس یا دیگر سکیوریٹی اہلکاروں کے تعلق سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اب تک یہی رائے اخذ کی ہے کہ آیہ فورسس قانون سے بالاتر ہوکر کام کرتی ہیں۔ وادی میں تشدد کی تازہ لہر ایک ایسے وقت اٹھی جب چیف منسٹر کی حیثیت سے محبوبہ مفتی نے وادی میں مظاہرہین کے ساتھ صبر و تحمل کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت دی تھی۔ اگر وادی میں مزاحمت اور احتجاج کو دبانے کا یہی طاقت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو پھر ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں حکمراں طبقہ کی پالیسیاں کیسی ہونی چاہئے۔ کشمیر بلاشبہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے تو اس ریاست کے لئے بھی دیگر ریاستوں کی طرح پالیسیاں بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جائے تو پھر تشدد اور فائرنگ کے واقعات کو ہوا دینے کے لئے حکمراں طبقہ ہی ذمہ دار کہلائے گا۔ وادی کشمیر میں ان کے حقوق کی پامالی سکیوریٹی فورسس کا معمول بن گیا ہے تو یہ افسوسناک اور اندوہ ناک رویہ ہے۔ دستور ہند کو انسانی زندگی کے تحفظ کے حقوق سے متصادم ہونے سے روکنا خود حکمراں طبقہ کی ذمہ داری ہے۔ ماضی کی یو پی اے حکومت کی پالیسی اور موجودہ حکومت کی پالیسی میں فرق دکھائی نہیں دیتا۔ سال 2010ء میں بھی طویل احتجاجی لہر کے دوران سکیوریٹی فورسس کے ہاتھوں 120 نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔ ہر مرتبہ ایسی ہلاکتوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے مگر عملی طور پر ایسا نہیں کیا جاتا۔ جاریہ تشدد کو روکنے کے ئے سکیوریٹی فورسس کو صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت تھی اور یہی صبر وتحمل ہی وادی کشمیر کو امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ سکیوریٹی فورسس کی بندوقوں کا رخ دہشت گردی کی طرف ہونا چاہئے، شہریوں کی طرف نہیں۔ سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فورسس کو اپنے ہی شہریوں میں بے اعتمادی اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کرنے اور بے حسی و اخطرائی فضاء پیدا کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ وادی کشمیر کو ہندوستان کے لئے بند مٹھی کی ریت بننے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ سمجھداری سے کام لیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT