Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / وادی کشمیر میں تشدد، کشیدگی ، ایک اور طالب علم ہلاک

وادی کشمیر میں تشدد، کشیدگی ، ایک اور طالب علم ہلاک

سرینگر ۔ 18 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : وادی کشمیر میں سیکوریٹی فورس نے ایک نوجوان کو آج گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ ترال میں فوجی کارروائی کے دوران دو نوجوانوں کی حالیہ ہلاکت کے خلاف سخت گیر حریت کانفرنس نے آج وادی میں بند کی اپیل کی تھی ۔ احتجاج کے دوران سیکوریٹی فورس نے ایک کمسن کو گولی مار دی ۔ اس ہلاکت کے فوری بعد حکام نے قتل کیس کا مقد

سرینگر ۔ 18 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : وادی کشمیر میں سیکوریٹی فورس نے ایک نوجوان کو آج گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ ترال میں فوجی کارروائی کے دوران دو نوجوانوں کی حالیہ ہلاکت کے خلاف سخت گیر حریت کانفرنس نے آج وادی میں بند کی اپیل کی تھی ۔ احتجاج کے دوران سیکوریٹی فورس نے ایک کمسن کو گولی مار دی ۔ اس ہلاکت کے فوری بعد حکام نے قتل کیس کا مقدمہ درج کیا اور مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ۔ ذرائع نے کہا کہ دو پولیس ملازمین کو بھی اس واقعہ کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ وادی کے کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا ہے ۔ جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ۔ ریاستی پولیس جوانوں نے بڈگام میں ترال مقام پر احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لیے اندھادھند فائرنگ کی جس میں 16 سالہ لڑکے کے بشمول 3 زخمی ہوئے ۔ اس زخمی لڑکے کو دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں سہیل احمد صوفی جانبر نہ ہوسکا ۔ قبل ازیں رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ یہ لڑکا سی آر پی ایف کی فائرنگ میں ہلاک ہوا ہے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں کہ لڑکے کی موت کس طرح ہوئی ۔ انہیں 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بڈگام میر الطاف احمد نے کہا کہ کمسن لڑکے کی موت پر وادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

وادی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب اس لڑکے کی ہلاکت کی اطلاع عام ہوئی ۔ پولیس نے اعتراف کیا کہ بادی النظر میں پولیس جوانوں نے ہی احتجاجیوں سے نمٹنے کے لیے مروج معیاری طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا تھا ۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب احتجاجیوں کو قابو میں کرنامشکل ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے خلاف دفعہ 302 ، 147 ، 149 ، 341 اور 427 کا کیس درج کیا گیا ہے ۔ حریت کانفرنس نے سخت گیر علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آج بند کا اعلان کیا تھا ۔ حریت اعتدال پسند گروپ کے لیڈر میرواعظ عمر قادری بشمول کئی حریت قائدین کو احتیاط نظر بند رکھا گیا ہے ۔ اس دوران میر واعظ کی حریت نے قومی انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہو کر اس واقعہ کا از خود نوٹ لے کر کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے ۔ بڈگام کے علاقہ ترال میں تیسرے طالب علم کی ہلاکت کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ میں کل 2 بجے سے سرینگر کے لال چوک پر اس واقعہ کے خلاف ایک گھنٹہ طویل بیٹھے رہو احتجاج کروں گا ۔ انہوں نے اتوار کو بھی ان ہلاکتوں کے خلاف ضلع بڈگام بند کا اعلان کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT