Thursday , December 13 2018

وادی کشمیر میں علحدگی پسندوںکی ہڑتال، عام زندگی بری طرح متاثر

سرینگر ۔ 17 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع سوپور ٹاؤن میں عام شہریوں کی ہلاکتوںکے خلاف علحدگی پسندوں کی ہڑتال کے نتیجہ میں وادی کشمیر میں عام زندگی متاثر ہوگئی۔ جموں و کشمیر لیبریشن فرنٹ کے علاوہ میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی کی زیر قیادت حریت کانفرنس کے دونوں گروپوں نے اس ہڑتال کا اہتمام کیا ت

سرینگر ۔ 17 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع سوپور ٹاؤن میں عام شہریوں کی ہلاکتوںکے خلاف علحدگی پسندوں کی ہڑتال کے نتیجہ میں وادی کشمیر میں عام زندگی متاثر ہوگئی۔ جموں و کشمیر لیبریشن فرنٹ کے علاوہ میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی کی زیر قیادت حریت کانفرنس کے دونوں گروپوں نے اس ہڑتال کا اہتمام کیا تھا جس کی وادی کے تقریباً تمام علحدگی پسند گروپوں نے تائید کی تھی۔ اس ہڑتال کے سبب تمام دکانات ، تجارتی ادارہ جات اور اسکولس بند رہے۔ وادی کے اکثر حصوں میں سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب رہی اور سرکاری بسیں بھی نہیں چلائی گئیں تاہم ریاست کے گرمائی دارالحکومت کے چند علاقوں میں خانگی گاڑیاں گزرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ خدمات کی عدم دستیابی کے سبب سرکاری دفاتر میں حاضری بہت کم رہی۔ جموں و کشمیر بار اسوسی ایشن بھی چونکہ ہڑتال میں شامل ہوچکی تھی اس لئے عدالتوں کا کام بھی متاثر ہوا۔

سوپور ٹاؤن میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران عسکریت پسندوں نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران علحدگی پسند کارکنوں اور سابق عسکریت پسندوں کے بشمول 6 افراد کو گولی ماردی تھی۔ اس کے بعد شمالی کشمیر کے اس ٹاؤن میں رہنے والے شہریوں میں خوف پیدا ہوگیا تھا ۔ پولیس نے ان ہلاکتوں میں ملوث سمجھے جانے والے دو عسکریت پسندوں کی گرفتاری میں معاون معلومات فراہم کرنے والوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان عسکریت پسندوں کی شناخت عبدالقیوم نجار اور امتیاز احمد کنڈو کی حیثیت سے کی گئی ہے، جو سمجھا جاتا ہے کہ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لشکر اسلام تنظیم کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نجار عرف نزار والا سوپور کا ساکن ہے، جو باور کیا جاتا ہے کہ ٹیلیکام ٹاورس پر حالیہ حملوں کے بعد پاکستان میں سرگرم صلاح الدین کے گروپ سے علحدہ ہوگیا ہے۔

ان حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انٹلیجنس اطلاعات کے مطابق نجار نے ان افراد کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عسکریت پسند گروپ کی تحریک کو کچلنے کیلئے سیکوریٹی اداروں اور سرکاری مشنری کی مبینہ طور پر مدد کی ہے۔ اس دوران متحدہ ہیڈکوارٹرس کمانڈ پر چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ چیف منسٹر پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریاست میں بہر صورت امن و قانون برقرار رکھنے کیلئے ممکنہ اقدامات کریں۔ انہوں نے حالیہ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ عوام کو جنگی پیمانہ پر مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بالخصوص سوپور ٹاؤن میں پیش آئے واقعات کا انہوں نے تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ عوام کے خوف و اندیشوں کو دور کرنے کیلئے مناسب اقدامات کریں۔ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے سوپور میں ہوئی ہلاکتوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو ریاستی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT