Sunday , July 22 2018
Home / اداریہ / وادی کشمیر کی سیکورٹی

وادی کشمیر کی سیکورٹی

جموں و کشمیر میں پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان سرینگر میں دواخانہ پر دہشت گرد حملے نے اس ریاست میں سیکورٹی اور عوامی سلامتی سے متعلق کئے جانے والے اقدامات پر تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے۔ سرکاری دواخانہ میں دہشت گردوں نے اُس وقت فائرنگ کی جب یہاں نوید جاٹ اور دیگر پانچ قیدیوں کو چیک اَپ کیلئے لایا گیا تھا۔ سرینگر جیسے سخت سیکورٹی کے علاقہ میں آکر دہشت گرد سرکاری دواخانہ شری مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ سکورٹی کیلئے کئے گئے انتظامات میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ حملہ منظم طریقہ سے کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں نے سیکورٹی عملہ کو چکمہ دیا اور دواخانہ میں تعینات مسلح سیکورٹی عملہ کے دو ملازمین کو نشانہ بناکر انہیں ہلاک کیا۔ یہ پولیس ملازمین پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے رہنے والے نوید حیات کو علاج کیلئے دواخانہ لائے تھے۔ نوید کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا گیا ہے جو مبینہ طور پر کئی پولیس ملازمین کی ہلاکت کیلئے ذمہ دار بھی بتایا جاتا ہے۔ اسے وادی کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں جنوبی کشمیر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 2014 میں اسے سرینگر کے انیواڑنی جیل میں محروس رکھا گیا تھا۔ آؤٹ پیشنٹ شعبہ کے باہر قیدیوں کو لے کر آنے والی گاڑی کے پہنچنے اور گاڑی سے ان قیدیوں کے اُترنے کے دوران ہی حملہ کیا جانا سیکورٹی کی لاپرواہی ہے۔ دہشت گردوں کی منصوبہ بندی سے انداز ہ ہوتا ہے کہ انہوں نے موثر تیاری کی تھی۔ ہندوستانی فوج سرحد پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے جان پر کھیل کر چوکسی اختیار کررہی ہے لیکن سیکورٹی کی آنکھ میں دھول جھونک کر جب یہ لوگ سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اندرون ریاست سیکورٹی بندوبست اور انٹلیجنس عملہ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ وہ ریاست میں اس طرح کے امکانی حملوں کیلئے موثر تیاری کرلیں۔ دہشت گرد فلمی انداز میں پولیس آفیسرس پر فائرنگ کرکے ایک قیدی کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو یہ سیکورٹی کی سنگین کوتاہی ہے۔ پولیس آفیسرس نے اپنی اور قیدیوں کی سیکورٹی کا کوئی موثر بندوبست نہیں کیا تھا تو اس کوتاہی کا نوٹ لینے کی ضرورت ہوگی۔ وادی کشمیر میں 1989 سے کئی دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں، اب تک اس دہشت گردی سے تقریباً70,000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس قدر خون ریزی کے باوجود سیکورٹی انتظامات کا محور صرف کشمیری عوام کو پریشان کرنے کیلئے ہو تو پھر وادی میں بدامنی و بے چینی کی کیفیت کو دور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی بلکہ اس طرح کی کوششیں صرف سیاسی شعبدہ بازی یا ڈرامائی کوشش متصور کی ہوگی۔ حال ہی میں چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے اس نازک مسئلہ کی جانب نشاندہی کی تھی کہ گزشتہ 7 سال کے دوران وادی کشمیر کے نوجوانوں کو دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل کرنے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ریاست کی چیف منسٹر نے ازخود اس طرح کے حساس موضوع کو ڈیٹا کی بنیاد پر پیش کیا ہے تو مرکز اور فوج کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ وادی کشمیر کی صورتحال پر توجہ دیں۔ اگرچیکہ جموں کشمیر کے پولیس سربراہ ایس پی وید نے چیف منسٹر کی اس بات کو اہمیت نہیں دی لیکن اس طرح ایک حکمراں کے بیان اور پولیس عہدیدار کے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے تو پھر حساس ریاست میں سیکورٹی کے تعلق سے محکمہ پولیس اور مرکزی سطح پر ذمہ دار قائدین کی غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گزشتہ سال مارچ میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ ڈیٹا میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ وادی میں 2014 سے مسلح جدوجہد میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے تو اس بارے میں کوئی سنجیدہ جائزہ نہیں لیا گیا۔ اس لئے سرکاری دواخانہ پر دہشت گردوں کے حملوں جیسے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ واقعات حکومت کی خامیوں کو عیاں کرتے ہیں۔مرکز اور جموں و کشمیر حکومت کو ریاستی سیکورٹی اور عوام کے زندگیوں کے تحفظ کیلئے اب تک کئے گئے انتظامات کا جائزہ لے کر ان کو مزید مضبوط بنانے پر دھیان دینا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT