Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / وارانسی میں مودی کو بدترین شکست مقصد : کجریوال

وارانسی میں مودی کو بدترین شکست مقصد : کجریوال

نئی دہلی ۔ 2 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے آج اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں وارانسی حلقہ لوک سبھا میں نریندر مودی کو بدترین شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی ’’محفوظ‘‘ حلقہ کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کا اصل مقصد بی جے پی وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو شکست دینا ہے۔ بی

نئی دہلی ۔ 2 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے آج اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں وارانسی حلقہ لوک سبھا میں نریندر مودی کو بدترین شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی ’’محفوظ‘‘ حلقہ کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کا اصل مقصد بی جے پی وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو شکست دینا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ میں وارانسی سے مقابلہ کررہا ہوں کیونکہ میں مودی کو شکست دینا چاہتا ہوں۔ کمار وشواس بھی امیتھی میں راہول گاندھی کو شکست دیں گے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے اور کامیابی کیلئے محفوظ حلقہ کا انتخاب نہیں کیا۔ میڈیا کے بعض گوشوں میں آنے والی ان رپورٹس پر کہ اگر نریندر مودی نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ کجریوال نے کہا کہ وہ ایسی پارٹیوں میں ہرگز شامل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے تعلق سے خبر غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے گجرات اور ہریانہ کے بھیوانی میں ان پر ہجوم کے حملہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بعض لوگوں نے وارانسی میں وشواناتھ مندر کے باہر آنے کے بعد ان پر انڈے پھینکے تھے۔

دارالحکومت دہلی میں تیسرے دن انتخابی مہم چلاتے ہوئے رڈ شو کے اروند کجریوال نے مشرقی دہلی کے مختلف اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ مقامی پارٹی امیدوار راج موہن گاندھی بھی تھے۔ عوام کے شاندار ردعمل اور پرتپاک استقبال سے مسرور کجریوال نے کانگریس اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ (کجریوال) دہلی سے راہ فرار اختیار کرچکے ہیں۔ وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں فرار ہوچکا ہوں۔ میں پاکستان فرار نہیں ہوا ہوں۔ چیف منسٹر کی کرسی چھوڑنے کیلئے خوبیاں بھی ہونی چاہئے۔ میں یہاں عوام کے درمیان موجود ہوں۔ میں آپ دونوں (کانگریس اور بی جے پی) کو شکست سے دوچار کرنے سبق سکھاؤں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی آخری سانس تک رشوت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھوں گا۔

اپنے حریفوں کو نشانہ بنانے کیلئے انہوں نے دیومالائی کہانیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھگوان رام نے بھرپور حمایت کے باوجود اپنی ماں کے حکم پر بنواس کیا تھا۔ کیا بی جے پی اس وقت ہوتی تو رام کو بھگوڑا قرار دیتی۔ پرانے وقتوں میں اگر بی جے پی کے لوگ راجیہ ہریشچندر کو بھی بھگوڑا کہتے تھے۔ مقامی مسائل کو اٹھاتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی نے پانی اور برقی پر سبسیڈی کو منسوخ کردیا ہے۔ دہلی میں ان کی حکومت کے 29 دنوں کے دوران جن احکامات کو نافذ کیا گیا تھا انہیں ہٹا دیا گیا۔ بی جے پی اور کانگریس نے برقی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے سبسیڈی کو منسوخ کیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان رشوت کا گہرا گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بی جے پی اور کانگریس دونوں کو گھر کا راستہ دکھائیں۔ کجریوال نے مزید کہا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں پارٹیوں نے دہلی میں حکومت بنانے سے راہ فرار اختیار کرلی تھی اور اب وہ مجھے بھگوڑا کہہ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT