Thursday , January 18 2018
Home / سیاسیات / وارناسی میں ’’مودی ہراؤ‘‘ مہم، دانشوران کی شرکت متوقع

وارناسی میں ’’مودی ہراؤ‘‘ مہم، دانشوران کی شرکت متوقع

فرقہ پرست مخالف ادباء ، صحافی و سماجی کارکن اروند کجریوال کے ساتھ

فرقہ پرست مخالف ادباء ، صحافی و سماجی کارکن اروند کجریوال کے ساتھ

لکھنو ۔ 14 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وارناسی پارلیمانحلقہ سے قومی ایکتا دل کے امیدوار سیاسی مافیا مختار انصاری کے نریندر مودی کے خلاف الیکشن نہ لڑنے کے فیصلے سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار اروند کجریوال کی وارناسی میں پوزیشن تیزی سے مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ اروند کجریوال کو امید ہے کہ اب وہ وارناسی میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلمان رائے دہندگان کی پہلی پسند ہوں گے کیونکہ وہ نریندر مودی کو الیکشن میں ہرانے کی پوزیشن میں ہیں۔ اروند کجریوال کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے دہلی یونیورسٹی ، جامعہ یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان ، طلباء ، گجرات کی سماجی کارکن تیستا ستیلواد ، الہند کے ارکان فرقہ پرست مخالف ادباء و شعراء ، صحافی جلد ہی وارناسی آنے والے ہیں، ان کے پروگرام کو آخری شل دی جارہی ہے ۔ قومی ایکتا دل کے مختار انصاری نے امسال وارناسی کی سیٹ سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے تاکہ سیکولر ووٹوں کو تسیم ہونے سے بچایا جائے ۔ اگرچہ گزشتہ الیکشن میں مختار انصاری یہاں سے بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار تھے ۔ انہوں نے بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو زبردست ٹکر دی تھی ۔ محض 16 ہزار ووٹوں سے الیکشن ہارے تھے ۔ وارناسی میں سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی ، کانگریس پا رٹی کے امیدوار میدان میں ہیں، حالانکہ یہ تمام امیدوار مودی کے مقابلے میں بہت کمزور امیدوار ہیں۔ ان سب کے مقابلے میں اروند کجریوال زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ عوام کا بہت جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے ۔ وارناسی پارلیمانی حلقہ سے نریندر مودی 22 اپریل کو اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کرنے والے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT