Monday , June 25 2018
Home / سیاسیات / وارناسی کی صدیوں قدیم ہندو ۔ مسلم اتحاد کی فضاء مسموم ہونے کا اندیشہ

وارناسی کی صدیوں قدیم ہندو ۔ مسلم اتحاد کی فضاء مسموم ہونے کا اندیشہ

وارناسی 2 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شہرہ آفاق کبیر مٹھ کے سربراہ سنت ویویک داس آچاریہ نے کہاکہ نریندر مودی اِس مندروں کے شہر کے یکجہت تمدن کی عکاسی نہیں کرتے۔ اُنھوں نے خبردار کیاکہ اُن کا اِس حلقہ سے انتخابی مقابلہ اِس مقدس مقام کے صدیوں قدیم ہندو ۔ مسلم اتحاد کی فضاء کو ’’مسموم‘‘ کردے گا۔ اُنھوں نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ وا

وارناسی 2 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شہرہ آفاق کبیر مٹھ کے سربراہ سنت ویویک داس آچاریہ نے کہاکہ نریندر مودی اِس مندروں کے شہر کے یکجہت تمدن کی عکاسی نہیں کرتے۔ اُنھوں نے خبردار کیاکہ اُن کا اِس حلقہ سے انتخابی مقابلہ اِس مقدس مقام کے صدیوں قدیم ہندو ۔ مسلم اتحاد کی فضاء کو ’’مسموم‘‘ کردے گا۔ اُنھوں نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ وارناسی کو ہندو مذہب کا مرکز ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اِن کی یہ سیاسی کوشش شہر کے ’’جذبہ اور شناخت‘‘ پر دیرپا اثر مرتب کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ وارناسی کے عوام کی بدبختی ہے کہ انتشار پسند مودی اِس مقدس شہر کے ملے جلے تمدن کی عکاسی نہیں کرتے۔ دنیا بھر کے کبیر پنتھیوں کی نظر میں وارناسی پندرھویں صدی کے سنت کبیر کا مقام پیدائش ہونے کی وجہ سے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔ قبل ازیں دو اہم ہندو مذہبی رہنما پوری کے شنکر آچاریہ سوامی ادھو شجانند دیو تیرتھ اور دوارکا کے شنکر آچاریہ سوامی سروپانند سرسوتی بھی وارناسی سے مودی کے مقابلہ کی مخالفت میں میدان میں آچکے ہیں۔ مودی کا مقابلہ اِس حلقہ سے کانگریسی امیدوار اجئے رائے اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال سے ہے۔ رائے دہی 12 مئی کو مقرر ہے۔ آچاریاؤں نے وارناسی کو مختلف مذہبی عقائد کا سنگم اور ہندوستان کی بنیادی اقدار کی علامت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ نریندر مودی انتخابی فوائد کے لئے ایک تنگ نظر فکر کے ساتھ ہندو روایات کے اعصابی مرکز وارناسی کا استحصال کررہے ہیں۔ جس سے ہندو ۔ مسلم اتحاد متاثر ہوگا۔ مودی کی ایک مصنوعی لہر پیدا کی جارہی ہے۔ دونوں آچاریاؤں نے کہاکہ وارناسی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ مرلی منوہر جوشی نے گزشتہ پانچ سال میں مقامی عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور نہ بی جے پی کے دیگر قائدین نے کچھ کیا۔

پھر مودی سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ کچھ کریں گے۔ کبیر مٹھ کے سربراہ نے بھی اپنے سیاسی تجزیہ کو درست قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم سنت ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ملک کو درپیش مسائل کو نظرانداز بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہیں اور نہ اُس کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ مٹھ سے تعلق رکھنے والے بھگتوں کا احساس ہے کہ مقدس شہر کا امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اِس انتخابی مقابلہ سے متاثر ہوگی۔ پوری دنیا میں وارناسی کی ایک منفرد شناخت ہے۔ ہر شخص کو جس کے تحفظ کی کوشش کرنی چاہئے، سیاستدانوں کو اپنے فائدے کے لئے وارناسی کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ کبیر مٹھ مختلف سرگرمیوں اور پراجکٹس کا مرکز ہے۔ جن کے ذریعہ دنیا کے مختلف حصوں میں کبیر داس کی تعلیمات کی اشاعت کی جاتی ہے۔ بی جے پی نے فیصلہ کیا تھا کہ وارناسی سے مودی کو مقابلہ میں اُتارا جائے کیوں کہ اِس سے ملک کی اہم ریاست یوپی میں بی جے پی کو فائدہ پہونچے گا۔ عام آدمی پارٹی قائد اروند کجریوال جو گزشتہ سال ڈسمبر میں دہلی اسمبلی انتخابات میں امتیازی کامیابی حاصل کرچکے ہیں، اپنی کامیابی کا وارناسی سے اعادہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں اُنھوں نے کثیر تعداد میں روڈ شوز اور نکڑ اجلاس منعقد کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT