Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / واقعۂ معراج کا ثبوت قرآن اور احادیث میں موجود

واقعۂ معراج کا ثبوت قرآن اور احادیث میں موجود

عمدۃ المحدثین مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف حضوراکرم ﷺکو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج ۳۴ مرتبہ ہوئی ۔

معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح ۲۷؍ رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے ۔ معراج شریف کے مدت سفر کی مقدار بیان نہیں کی گئی ہے اور یہ طی ارض کی صورت میں نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں ساری مسافت طے کی گئی اور نہایت مختصر وقت میں کہ بستر گرم تھا ، زنجیر ہل رہی تھی اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، جب کہ حضرت جبرئیل امین اور دیگر فرشتے جو حضور علیہ الصلوٰۃ واسللام کے خادم ہیں ، وہ ساتوں آسمانوں سے آن کے آن میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو باعث تخلیق کون و مکاں ہیں اور آپ کے زیرحکم اور خادم مسخر ہیں ، آپ کے لئے کیا استحالہ ہوسکتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حظیرہ قدسیہ میں پہنچ کر بھی امت کی فکر تھی ۔ رب العزت کی طرف سے مراحم خسروانہ سے سرفرازی کی گئی کہ نماز کا تحفہ ، سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کے ذریعہ کبائر کی مغفرت کا وعدہ اور بشرت عظمیٰ اور ہمیشہ انابت الی اللہ کی فکر کرنے سے ترقی مدارج اور امت کو معراج کی راہ بتائی گئی ’’ الصلوٰۃ معراج المؤمنین ‘‘ ۔
معراج مبارک کا ثبوت قرآن مجید کے سورہ بنی اسرائیل میں زمینی سیر بیت المقدس تک اور سورہ نجم میں معراج سماوات اور سیر ملکوتی اور مقام دنیٰ و تدلی میں لقاء کا ذکر موجود ہے ، اور احادیث شریفہ میں کئی صحابہ کرام سے معراج شریف کی روایت موجود ہے ۔ بیت المقدس تک سیر کا اگر کوئی انکار کرتا ہے ، تو کافر ہوجائے گا اور آسمانی سفر کا انکار کرنا گمراہی ، بدعت اور بے دینی ہے ۔
معراج شریف کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا اور اس کی انتہاء مقام دنی و تدلی پر ہوئی اور اس پورے سفر میں تین سواریوں کے ذریعہ دس بلندیاں طے کی گئیں ۔ براق پر بیت المقدس تک ، برق کے ساتھ نورانی سیڑھی پر سدرہ تک اور رف رف پر مقام قاب قوسین تک ۔ بعض نے پانچ سواریوں کا ذکر کیا ہے یعنی براق پر بیت المقدس تک ، نورانی سیڑھی سے آسمان دنیا تک ، فرشتوں کے بازوؤں کے ذریعہ ساتویں آسمان تک ، جبرئیل علیہ السلام کے بازو کے ذریعہ سدرہ تک اور رف رف سے مقام قوسین تک ۔ اس سفر میں مراقی عشر یعنی دس بلندیاں طے فرمائیں اور اس سے آگے تشریف لے گئے ۔ ایک تا سات حطیم کعبہ سے ساتویں آسمان تک (۸) سدرۃ المنتہی (۹) مستوی (صریف الاقلام) (۱۰) عرش اعظم ۔ (روح المعانی) سفر کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا ۔ رات میں جب کہ ساری دنیا محو خواب تھی ، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت کھلی اور حضرات جبرئیل امین ، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام آئے ۔ چھت کے ذریعہ آنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ کو اوپر تشریف لے جانا ہے اور شق صدر ہوگا اور یہ سفر خارق عادات ہے ، مناجات ہے اور فوری روانگی ہے ۔ آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور چاہ زم زم کے پاس آپ کا سینہ انور کو چاک کرکے ، قلب مبارک کو سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت اور نور سے بھر دیا گیا اور پھر سینہ مبارک کو برابر کردیا گیا ۔ آپ کا سینہ مبارک طفولیت سے معراج مبارک تک چار مرتبہ چاک کیا گیا اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ چاک کیا گیا ۔ براق لایا گیا تھا ، اس پر آپ سوار ہوئے ۔ برقا نے شوخی کی اور اس کا شوخی کرنا حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے شرف پانے پر ناز اور فخر کی وجہ سے تھا ، قیامت کے دن آپ کے شرف رکوب کا وعدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کی اور بھی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ براہ مدینہ طیبہ و طور سینا آپ بیت المقدس پہنچے اور براق کو ایک پتھر کے قلابہ سے باندھ دیا گیا ۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتے جمع تھے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سب نے آپ کی اقتداء کی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے بوقت واپسی امامت فرمائی ، اس میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ بوقت واپسی بھی امامت فرمائی اور یہ فجر کی نماز تھی ۔پھر دودھ اور شراب کے پیالے پیش کئے گئے ، آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اب بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، بیت المقدس تک کے سفر کو ’’ اسراء ‘‘ کہتے ہیں ، جس کی منجملہ حکمتوں کے یہ ہے کہ وہ محشر ہے سرزمین محشر کو آپ کا قدوم میمنت لزوم سے شرف بخشنا ۔ بتدریج حظیرہ قدس میں پہنچنا ۔ آپ کے آسمانوں پر عروج کے لئے خصوصی دروازہ بیت المقدس کے محاذی بنایا گیا ، اس لئے بھی بیت المقدس تک تشریف لے گئے ۔ کثرت سے انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے ، آپ کی تشریف آوری سے نزول برکات کی تکمیل کرنا۔ عرب کا بیت المقدس آنا جانا تھا ، اس کی تمام تفصیلات سے وہ واقف تھے ۔ بیت المقدس کی راہ سے اوپر جانا لوگوں کو ایمان لانے کے لئے بطور تمہید و ایقان کے لئے تھا ۔

بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، آپ کے لئے نور کی خصوصی سیڑھی رکھی گئی ، انبیاء علیہم السلام استقبال کے لئے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے آسمانوں پر پہنچ گئے اور انبیاء علیہ السلام کی روانگی محققین کے پاس اپنے اجساد بدنیہ کے ساتھ ہوئی ۔ تمام آسمانوں اور ملاء اعلیٰ پر ہر طر فآپ کی آمد کا اعلان ہوچکا تھا اور سب آپ کے انتظار میں تھے ۔ انبیاء علیہم السلام اور تمام فرشتے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے استقبال کے لئے مختلف آسمانوں پر کھڑے تھے ۔ ہر آسمان پر آپ کے استقبال کے لئے دروازہ کھولے جانے سے پہلے آداب استقبال کے مطابق دربانوں نے آپ کی تشریف آوری کے بارے میں سوالات کئے اور یہ اس لئے بھی کہ یہ دروازے صرف حضور علیہ الصلوٰۃ اولسلام کے لئے تھے ، لیکن آپ کے ہمرکاب حضرت جبرئیل امین تھے اور وہ دروازہ کھلوا رہے تھے ۔

آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام ، آسمان دوم پر حضرت یحیی و عیسی علیہما السلام ، سوم پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چہارم پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پنجم پر حضرت ہارون علیہ السلام ، ششم پر حضرت موسمی علیہ السلام اور ہفتم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام استقبال کے لئے منتظر تھے ۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے سلام اور تحیت کے بعد مرحبا فرماکر استقبال کیا ۔ حضرت آدم اور ابراہیم علیہا السلام نے مرحبان بابن الصالح اور دیگر تمام پیغمبروں نے مرحبا بالاخ الصالح فرمایا ۔ صالح سے مراد رب کے مظہر اتم اور رویت باری تعالیٰ و نیز شفاعت کبریٰ کی صلاحیت والی عظیم ہستی مراد ہے ۔ بعض پیغمبروں کا ایک زائد آسمانوں پر ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس لئے کہ وہ بعد استقبال دوسرے آسمان پر بھی پہنچ گئے تھے اور آپ بیت المعمور تشریف لے گئے ، جس کا ہر روز نئے ستر (۷۰) ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں ، آپ نے وہاں بھی امامت فرمائی ۔ پھر سدرۃ المنتہی تشریف لے گئے ، یہ مقام اس کے اوپر والوں کے لئے اور اس کے نیچے والوں کے لئے حد فاصل ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ اس کے انوار و کیفیات بیان سے باہر ہیں ۔ حضرت جبرئیل امین فرمائے کہ یہاں سے ایک پور بھی میں آگے بڑھوں گا ، تو میرے پر چل جائیں گے ۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بہ نفس نفیس اوپر تشریف لے جاتے ہیں، پھر مقام مستوری پہنچے اور تمام عوام کا مشاہدہ فرمایا اور تدبیرات عوالم سارے دکھائے گئے اور عوالم کے تقدیرات لکھنے والے قلموں کی آواز سنی ۔ تمام مراتب اعلیٰ پر عروج پر ترقی کے بعد ، قرب خداوندی کی طرف سفر شروع ہوا ، اس سے اوپر عرش معلیٰ ، مقام قاب و قوسین اور دنی و تدلی تک پہنچے ، جہاں کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی اور رویت باری تعالیٰ کا شرف عطا ہوا ، آپ کے سواء کسی کو اس دنیا کی زندگی میں رویت کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روایت باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں ہے ، ان کا مطلب احاطہ کا انکار ہوسکتا ہے ، کیونکہ ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، اس سے روایتوں میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
بارگاہ احدیت میں پہنچ کر آپ کی نگاہ ہٹی نہیں اور آداب کے زینہ سے تجاوز بھی نہیں کی ۔ آپ نے آداب کا تحیہ پیش کیا اور ’’ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات ‘‘ کے ذریعہ حمد و ثناء فرمائی ۔ جواب میں رب العزت کا ارشاد ہوا ’’ السلام علیک ایھا النبی و رحمتہ اﷲ و برکاتہ ‘‘ ۔ پھر اس پر حضور علیہ السلام نے ’’ السلام علینا وعلی عباداﷲ الصالحین ‘‘ کے ذریعہ ساری امت اور فرشتوں کو اس سلامتی میں شامل فرمایا ، تو فرشتوں نے ’’ اشہدان لا الہ الااﷲ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کے ذریعہ آپ کی جناب اقدس میں ہدیہ تشکر پیش کیا اور اسی ’’ التحیات ‘‘ کو نماز میں شامل کردیا گیا ۔ اس میں اب یہ بحث ہے کہ نماز میں تحیہ و سلام بطور حکایت ہے ، یا انشاء درحقیقت یہ انشاء ہے ، اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام عارف باﷲ محمد انوار اﷲ فاروقی رحمۃ اﷲ علیہ بانی جامعہ نظامیہ یہی ارشاد فرماتے ہیں کہ رب تعالیٰ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں مناجات ہوتی رہی (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اور امت کے لئے ۵۰ نمازوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر نماز کی فرضیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز مسلمانوں کے لئے معراج ہے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تخفیف کے لئے خواہش کی ، تو آپ نو مرتبہ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے ۔ ہر بار پانچ پانچ نمازیں تخفیف ہوتی گئیں اور صرف پانچ نمازیں قائم رہیں ، جن کو پچاس کے برابر قرار دیا گیا۔ اس میں حضرت موسی علیہ السلام دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔ دنیا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ’’ رب ارنی انظر الیک ‘‘ اور یہ ان کی بڑی تمنا تھی ، لیکن ’’ لن ترانی ‘‘ آپ کو جواب ملا ، وہی موسی علیہ السلام آپ میں دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سفر عروج اور سیر ملکوتی میں آیات کبریٰ اور جنت و دوزخ ، حوض کوثر اور سدرہ سے نکلنے والی چار نہریں جو دنیا میں آرہی ہیں ’’ نیل ، فرات ، سیحان ، جیجان ‘‘ اور تمام عوالم کا مشاہدہ فرمایا ۔ معراج سے واپسی اسی راستے سے ہوئی اور بیت المقدس سے مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں قریش کے قافلے ملے ، جو مکہ معظمہ کو آرہے تھے ، سواری براق جب وہاں سے گذری، تو اس کی تیز رفتاری سے قافلہ کے اونٹ منتشر ہوگئے اور ایک قافلہ کا اونٹ بدک کر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ ایک قافلہ کا اونٹ گم ہوگیا تھا ، تلاش کرکے اس کو لایا گیا ۔ آپ صبح سے پہلے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور صبح میں آپ نے اہل مکہ کو اپنے سفر معراج کی خبر دی اور مقام روحاء میں قافلوں کے پاس سے گذرنے اور ان کے واقعات کی خبر دی اور فرمایا کہ یہ قافلے چہارشنبہ کی شام تک پہنچ جائیں گے ۔ اہل مکہ نے اس بات کا مذاق اڑایا ، مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً تصدیق کی اور تمام مسلمانوں نے بھی تصدیق کی ۔ کفار اس واقعہ کی صداقت جاننے کی غرض سے بیت المقدس کے حالات اور اس کے ستون دریافت کرتے گئے اور آپ نے تمام سوالوں کے جوابات پوری تفصیل سے بیان کردیئے ۔ چہارشنبہ کا دن گذر رہا تھا ، مگر قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے ، آپ نے سورج کو رک جانے کا حکم دیا ، جس کو ’’ حبس شمس ‘‘ کہتے ہیں اور مغرب سے پہلے پہلے قافلے پہنچ گئے اور ہر بات آپ کی صحیح ثابت ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT