Saturday , January 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں

والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے والد نہایت اچھے انسان ہیں، وہ اپنے گھروالوں کا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی ہے کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں، زید کو اپنے والد کے اس عمل سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ نمازوں کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے ۔ زید نماز پابندی سے پڑھتا ہے۔ زید کو اس بات سے ڈر ہوتا ہے کہ ان کو شراب پینے اور نماز ترک کرنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا ۔ اس کے علاوہ دنیوی اعتبار سے وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ ایسی صورت میں زیدکو کیا کرنا چاہئے کہ ان کو سمجھا یا نہیں جاسکتا ۔ ڈر ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں شرعا زید کو کیا کرنا چاہئے ۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والدین میں غیر شرعی عمل کو دیکھے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں اس عمل کی برائی کو ظاہر کرے اور نہایت سنجیدگی اور نرمی سے ان کو اس عمل سے روکے لیکن ان کو شدت سے نہیں روکنا چاہئے ۔ اگر وہ بات قبول کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ نفع المفتی والسائل ص : ۱۲۲ میں ہے: فان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فیہ منفعۃ من امرہ و نہاہ عن المنکر والاب والام أحق بأن ینفع لھما … لکن ینبغی ان لا یعنف علی الوالدین فان قبلا فبھا والا سکت و اشتغل بالا ستغفار لھما کذا فی نصاب الاحتساب۔

خطیب کا طویل تقریر کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسلام میں وقت کی پابندی کے بارے میں کیا ہدایتیں ہیں۔ مسجدوں کے امام وقت کی پابندی نہیں کر کے مصلیوں کو مشقت میں ڈالتے ہیں۔
اسلام کی روشنی میں اس کا جواب دیجئے ؟
جواب : اوقات کی پابندی سب کے لئے ہر وقت لازم ہے ۔ بالخصوص جمعہ کی نماز کے لئے مختلف مقامات کے لوگ ا پنی مصروفیات ترک کر کے مسجد میں جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے نماز کا جو وقت مقرر ہے حتی المقدور اس کی پابندی کرنی چاہئے تاکہ وقت مقررہ کے لحاظ سے کوئی شخص آجائے اور اس کو فوری نماز کے ساتھ واپس ہونا ہو تو وہ سہولت سے واپس ہوسکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں اس کا بھرپور لحاظ فرمایا ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طویل نماز پڑھانے پر متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہارے پیچھے کمزور ، ضرورتمند ہوتے ہیں، ان کا لحاظ رکھا جائے۔
پس جمعہ کے موقعہ پر خطباء کا وقت مقررہ سے زائد تقریر کرنا اور اس کو اپنی عادت بنالینا قطعاً معیوب و ناپسندیدہ ہے۔

بیٹھ کر نفل نماز پڑھنا
سوال : اکثر لوگ عشاء کی وتر کے بعد دو رکعت نفل نماز بیٹھ کر ادا کرتے ہیں۔ باوجود یہ کہ وہ لوگ قیام پر قدرت رکھتے ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی شخص قیام پر قدرت رکھتے ہوئے بیٹھ کر نفل نماز پڑھے تو نماز ادا ہو گی یا نہیں ؟
جواب : نفل نمازوں میں رخصت ہے کہ قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر ادا کرے تو نماز بلا کراہت جائز ہے۔ عالمگیری جلد اول ص ۱۱۴ میں ہے : و یجوز ان یتنفل القادر علی القیام قاعداً بلا کراہۃ فی الاصح۔

TOPPOPULARRECENT