Monday , December 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / والدین کی خوشنودی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے

والدین کی خوشنودی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے

سید انور حسین عاجزؔ

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کی خدمت کو جہاد پر فوقیت دی، لیکن آج ہم اس معاملے میں اتنے بے پرواہ ہو گئے ہیں کہ والدین کو چھوڑکر بیرونی ممالک میں قیام کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’والدین کی خوشنودی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے اور والدین کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے‘‘۔ یعنی اگر ہم اپنے والدین کو خوش رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ہم سے خوش ہوگا۔ والدین کی خدمت کو اپنی عادت بنا لینا چاہئے، انھیں وقت دینا اور ان سے باتیں کرنا چاہئے اور جب بھی اُن سے کوئی بات کی جائے تو نرمی سے کی جائے۔ نہ تو انھیں جھڑکنا چاہئے اور نہ ہی ان سے بلند آواز میں بات کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’انھیں (والدین کو) اُف بھی نہ کہو‘‘۔ اگر ہم اپنی بھلائی چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہماری اولاد بھی ہماری فرماں بردار رہے، تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنے والدین کی فرماں برداری کریں، اس طرح ہماری اولاد ہماری فرماں برداری کرے گی۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جہاد کی غرض سے یمن سے ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد میں شرکت کی درخواست کی۔ آپﷺ نے اس سے دریافت کیا: ’’کیا یمن میں تیرا کوئی ہے؟‘‘۔ اس شخص نے عرض کیا: ’’ہاں میرے ماں باپ ہیں‘‘۔ پھر آپﷺ نے اس سے پوچھا: ’’کیا انھوں نے تجھے (ہجرت اور جہاد کی) اجازت دی ہے؟‘‘۔ اس شخص نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اب تو ان کے پاس واپس جا اور ان سے اجازت لے۔ اگر وہ تجھے اجازت دیں تو جہاد میں شریک ہو، ورنہ ان کی خدمت کرکے نیکی کما‘‘ (ابوداؤد) اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کی خدمت کو جہاد پر فوقیت دی ہے، لہذا جن کے والدین باحیات ہوں، وہ ان کی خدمت میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کریں، کیونکہ ہماری خدمت اور احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہمارے والدین ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیاکہ ’’لوگوں میں سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا حقدار کون ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں‘‘۔ اس نے پوچھا: ’’پھر کس کا حق ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں‘‘۔ اس نے پھر عرض کیا: ’’اس کے بعد کس کا حق ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں‘‘۔ اس شخص نے جب چوتھی دفعہ پھر یہی سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تیرا باپ‘‘۔ (مسلم)

آج ہمارے مسلم معاشرہ میں روز بروز ماں باپ کی قدر گھٹتی جا رہی ہے، اُنھیں جھڑکا جا رہا ہے، ان کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہے۔ بعض بدنصیب، والدین کے ساتھ مار پیٹ بھی کرتے ہیں اور بعض ناخلف اُنھیں گھر سے نکال بھی دیتے ہیں۔ یقیناً بربادی اور ہلاکت ہے ایسی اولاد کی، جو اپنے والدین کو تکلیف دے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’ہلاک ہو جائے وہ شخص، جو اپنے والدین کو ضعیفی کی حالت میں پائے اور ان کی خدمت نہ کرے‘‘۔ افسوس ہے ایسے بیٹے پر، جس کے ماں باپ اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہوں کہ کہیں وہ ان کی بے عزتی نہ کردے۔
اگر کوئی شخص دنیا و آخرت میں کامیابی کا خواہش مند ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے والدین کو خوش رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کی سزا مقرر کر رکھی ہے، قیامت کے دن گنہگار شخص کو گناہوں کی سزا ملے گی، لیکن ماں باپ کے نافرمان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا ملے گی۔
والدین پر بھی اولاد کے کچھ حقوق ہیں، والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دیں، انھیں بُرائی سے بچائیں اور انھیں اسلامی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کریں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تمہاری اولاد کے لئے تمہارا بہترین تحفہ انھیں علم سے آراستہ کرنا ہے‘‘۔
آج ہمارے معاشرے میں دنیاوی تعلیم تو دی جاتی ہے، مگر دینی تعلیم سے بے رغبتی برتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل ماں باپ کے حقوق سے ناآشنا ہے، نہ اسے پڑوسی کے حقوق معلوم ہیں اور نہ ہی رشتہ داروں کے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم ضرور دیں، تاکہ وہ ان کے حقوق کو سمجھیں اور ماں باپ کے فرماں بردار و اطاعت گزار بنیں۔

اہلِ جنت
اہل جنت کو جب کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو ’’سبحانک اللّٰھم‘‘ کہیں گے۔ یہ سنتے ہی فرشتے ان کے مطلب کی چیز حاضر کردیں گے، گویا کلمہ ’’سبحانک اللّٰھم‘‘‘ اہل جنت کی ایک خاص اصطلاح ہوگی، جس کے ذریعہ وہ اپنی خواہش کا اظہار کریں گے اور ملائکہ اس کو پورا کریں گے۔
اہل جنت کی ابتدائی دعا ’’سبحانک اللّٰھم‘‘‘ اور آخری دعا ’’الحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ ہوگی۔ اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی نصیب ہوگی، جس میں اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہونے اور بزرگی کا ذکر ہے۔ اہل جنت کا دن رات یہی مشغلہ ہوگا۔
اہل جنت جب ’’سبحانک اللّٰھم‘‘‘ کہیں گے تو اس کے جواب میں اللہ تعالی کی طرف سے سلام پہنچے گا، جس کے بعد وہ ’’الحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ کہیں گے۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT