Wednesday , December 13 2017
Home / کھیل کی خبریں / والدین کی2 وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔ نوجوان فٹ بالر قومی ٹیم میں شامل

والدین کی2 وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔ نوجوان فٹ بالر قومی ٹیم میں شامل

٭ کسان کا 16 سالہ بیٹا امرجیت ہندوستان کا کپتان
٭ درزی کا بیٹا کومل بچپن میں کپڑوں کے فٹبال سے کھیلتا تھا
٭ فٹ پاتھ پر کپڑے فروخت کرنے والی خاتون کا بیٹا اسٹالین انڈر 17 ٹیم میں

نئی دہلی۔22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سکم سے تعلق رکھنے والے ٹیلر کا بیٹا، منی پور سے تعلق رکھنے والے بڑھئی کا بیٹا، بنگلور کی سڑک پر تجارت کرنے والی خاتون کا بیٹا فیفا انڈر 17 ورلڈ کپ میں ہندوستانی فٹبال ٹیم کی نمائندگی کررے ہیں اور یہ وہ نوجوان فٹبالرس ہیں جن کے والدین زندگی کی گذربسر کے لیے سخت محنت کرتے ہیں جس کے باوجود انہیں 2 وقت کی روٹی ہی نصیب ہوتی ہے۔ 6 تا 28 اکٹوبر ہندوستان میں کھیلے جانے والے فیفا انڈر 17 ورلڈ کپ کے لیے معلنہ 21 رکنی ہندوستانی ٹیم میں شامل کئی کھلاڑیوں کی داستانیں کچھ ایسی ہی ہیں کہ ان کے والدین 2 وقت کی روٹی کے لیے سخت محنت کرتے ہیں لیکن ان نوجوان نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے زندگی میں حائل مسائل کو رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ سکم سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ کھلاڑی کومل تاتل نے کہا کہ میرے والدین درزی میں اور ہماری ایک چھوٹی دکان ہے جبکہ میں بچپن میں کپڑوں اور پلاسٹک سے بنے فٹبال سے کھیلتا تھا۔ کومل کے والدین انوپ کمار اور سمترا اپنی آمدنی سے چند پیسے بچاکر اپنے بیٹے کے لیے کٹ جس میں جوتوں کی جوڑی بھی شامل تھی خریدی۔ کومل نے کہا کہ یہ کافی مشکل تھا کہ میں اپنے والدین سے فٹبال کی خواہش کرتا لیکن وہ کافی تعاون کرتے تھے۔ ٹیم کے متوقع کپتان امرجیت سنگھ جن کا تعلق منی پور سے ہے، ان کی بھی ایسی ہی داستان ہے جن کے والد چندرانی سنگھ کسان اور بڑھئی ہیں جبکہ ان کی والدہ اشانگھی دیوی مارکٹ میں مچھلی فروخت کرتی ہیں۔ 16 سالہ امرجیت سنگھ نے کہا کہ میرے والد ایک کسان ہیں اور وہ غیر سیزن میں بڑھئی کا کام کرتے ہیں اور انہوں نے کبھی مجھے ان کے کام میں ہاتھ بٹانے مانگ نہ کی بلکہ وہ مجھے فٹ بال کھیلنے کی پوری اجازت دینے کے علاوہ میری ہمت افزائی بھی کرتے ہیں۔ 16 سالہ امر جیت 2010ء میں چندی گڑھ اپنے بڑے بھائی کے پاس آئے جہاں انہوں نے اسکول کی ابتدائی تربیت کو چندی گڑھ فٹ بال اکیڈیمی میں مزید آگے بڑھایا۔ تیسری داستان سنجیو اسٹائیلن کی ہے جن کی والدہ پرمیشوری بنگلور کی سڑک کے کنارے ملبوسات فروخت کرتی ہیں اور ان کے ماموں اس کام میں مدد کرتے ہیں جس سے آمدنی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سنجیو نے کہا کہ ذمہ دار افراد غریب ہونے کے باوجود مجھے فٹ بال میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل رہا ہے۔ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان تمام نوجوان فٹ بالرس کا ایک ہی خواب ہے کہ وہ ہندوستان کے لیے کچھ ایسا کرجائیں جس پر سارے ملک کو فخر و ناز ہو۔

TOPPOPULARRECENT