والدین کے حقوق

حافظ سید مدثر حسینی

حافظ سید مدثر حسینی
دین اسلام حقوق وفرائض کی باہمی ادائیگی کا جتنا معتدل، خوبصورت اور معیاری عملی نمونہ پیش کرتا ہے، دنیا کا کوئی قدیم وجدید مذہب اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کر سکا۔ آج بھی معاشرہ مادی ترقی کے باعث مہذب معاشرتی نظام کا دعویدار ہے، لیکن انسانی رشتوں کے تقدس کے اسلامی معیار کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکا۔ مادیت طلبی نے والدین کو بچوںکی تربیت سے بیگانہ کردیا ہے، بچے والدین کی توجہ اور محبت سے محروم ہوکرکیر سنٹرس میں پرورش پارہے ہیں اور ضعیف والدین اپنی نوجوان باروزگاراولاد کی توجہ سے محروم ہوکر رفاہی اداروں میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں، حالانکہ ہر بوڑھا اور بچہ خونی رشتوں کی محبت اور توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ انھیں جو احترام اور حفاظت کی فضاء گھر میں مل سکتی ہے، باہر کسی بھی جگہ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین کا سایۂ عاطفت اللہ کی ایسی گراں بہا نعمت ہے، جس کا دنیا میں کوئی بدل نہیں۔ بچے کے لئے دنیاکے خزانے اور رہائش و زیبائش کے اعلیٰ انتظامات ایک طرف اور ماں کی مامتا اور شفقت پدری سے حاصل ہونے والی راحت وطمانیت ایک طرف۔ والدین کی شفقت و پرورش نہ ہوتوانسان صحرائے حیات میں نوخیز کونپل کی طرح حوادثاتِ زمانہ کے دست بُرد کا شکار ہوکر بکھر جائے گا۔
قرآن اور احادیث نبویﷺ میں اس فریضہ کی باہمی ادائیگی سے متعلق بہت سے احکام مذکور ہیں، جن پر عمل کرکے اسلامی معاشرہ ہمیشہ ادب واحترام اور محبت ومروت جیسی مثالی صفات سے متصف رہا، لیکن تہذیب جدید کے مادیت زدہ ماحول نے اکثر گھرانوں میں اس مقدس رشتے کا تقدس ختم کردیا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسلام جس طرز زندگی کی تعلیم دیتا ہے، وہ افراط و تفریط سے پاک، متوازن اور متوسط طور طریقوں سے عبارت ہے۔ زیر بحث موضوع اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے نہ صرف نسل انسانی، بلکہ ہمارے گھر اور پورے معاشرے کا آغازہوتا ہے۔ ہماری مراد خاندانی یونٹ کے تحفظ، یعنی حقوقِ والدین سے ہے۔ والدین کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں جابجا ایسے مقامات جہاں عقیدۂ توحید، ایمانیات، اطاعت الٰہی اور اطاعت رسولﷺکے ذکر کے فوراً بعد کسی اور موضوع کو درمیان میں لائے بغیر جس موضوع کو بیان کیا گیا، وہ والدین کے حقوق سے متعلق ہے۔ اگر عمیق نظر سے دیکھا جائے تو یہ ہماری عملی، سماجی اور معاشرتی زندگی کا اولین عنوان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا تعلق انسان سے ہے اور انسانی زندگی کا آغاز ماں باپ سے ہوتا ہے، یعنی خاندانی زندگی کے معمار والدین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کئی مقامات پر اس موضوع کو بیان کیا ہے، مثلا: ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش کی ابتداء ایک جان سے کی، پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا، پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں کی تخلیق کو پھیلادیا‘‘۔ (سورۂ نساء۔۱)
مذکورہ آیت کے ابتدائی کلمات میں اللہ رب العزت نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کا ذکر کرنے کے بعد عملی زندگی کے حقوق و واجبات اور فرائض بیان کئے ہیں اور اس امر کی صراحت فرمائی ہے کہ اس کے سوا اور کوئی اس قابل نہیں کہ اس کی پرستش کی جائے اور معبود ٹھہرایا جائے۔ صرف اسی کی ذات معبود برحق اور پرستش وعبادت کے لائق ہے۔ یہ فیصلہ سنانے کے بعد والدین کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کا سلوک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو‘‘۔ یہ طرز تخاطب حکمت اور مقصد سے خالی نہیں، اس لئے کہ نوجوانوں میں ایسے بہت سے ہیں، جو جوانی کے نشے اور ترنگ میں والدین سے بے توجہی اور بے التفاتی کا سلوک کرتے ہیں اور ان کی خدمت اور اطاعت کا حق بتمام وکمال ادا نہیں کرتے۔ والدین کے بارے میں نوجوانوں کی جو ذمہ داریاںہیں، ان کی بحسن و خوبی بجا آوری پر صحت مندانہ اور بالغ النظر معاشرتی زندگی کا دارومدار ہے۔ اسی بنا پر قرآن حکیم نے حقوق والدین کا ذکر اللہ تعالیٰ کی توحید کے بیان کے بعد کیا ہے۔ ہمیں کردار وعمل کے اخلاص سے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ اگر مُربّیانا انداز سے نوجوانوںکے کردار وعمل کی اصلاح پر بھرپور توجہ دی جائے تو مایوس ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے بھی والدین کے حقوق کا تعین ہوتا ہے۔ ایک حدیث مبارک میں ہے کہ ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا: ’’یا رسول اللہ ! والدین کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں کہ ان کے کیا حقوق ہیں؟‘‘۔ آقائے دوجہاںﷺ نے والدین کی نسبت سوال کرنے والے اس شخص سے فرمایا:’’وہ دونوں تیری جنت اور دوزخ ہیں‘‘۔ (ابن ماجہ،کتاب الادب)
حدیث شریف کے الفاظ واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ تمہارے والدین ہی تمہاری جنت ہیں، اگر تم ان کی خدمت کا فریضہ انجام دو گے تو جنت کے حق دار ہوگے اور اگر تم ان کی خدمت ترک کردوگے تو وہ تمہارے دوزخ میں پہنچنے کا موجب بن سکتے ہیں، لہذا ہمیں چاہیے کہ اس حق کی ادائیگی میں ہمہ وقت مستعد رہیں۔

TOPPOPULARRECENT