Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / واٹر مافیا کا راج ، کارروائی ندارد، موٹر سے پانی کھینچنے والوں کیخلاف کارروائی

واٹر مافیا کا راج ، کارروائی ندارد، موٹر سے پانی کھینچنے والوں کیخلاف کارروائی

شہریان حیدرآباد بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں، آبرسانی بورڈ کے یکطرفہ فیصلہ سے عوام میں بے چینی
حیدرآباد 17 اپریل (سیاست نیوز) محکمہ آبرسانی کی جانب سے شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سربراہی کے پریشر میں کمی کے سبب عوام موٹر کے ذریعہ پانی کھینچنے پر مجبور ہیں لیکن محکمہ کی جانب سے موٹر کے ذریعہ پانی کھینچے جانے پر سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ شہری جوکہ پانی کی قلت سے کئی مسائل کا شکار ہیں، اُنھیں موٹر لگانے پر ہراساں کئے جانے کے واقعات سے شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ موٹر کے ذریعہ پانی کھینچنا قانوناً جرم ہے لیکن شہر کے کئی علاقوں میں جہاں لوگ پانی فروخت کررہے ہیں وہ بھی غیر قانونی عمل میں ملوث ہیں۔ مگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ موسم گرما کے آغاز سے قبل حکومت اور محکمہ آبرسانی کی جانب سے اِس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ غیر مجاز واٹر پلانٹس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں بند کیا جائے گا اور زیر زمین سطح آب میں گراوٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں گے لیکن غیر مجاز واٹر پلانٹس کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور جیسے جیسے گرما میں شدت پیدا ہورہی ہے ویسے یہ کاروبار عروج پر پہونچتا جارہا ہے۔ کئی علاقوں سے اِس بات کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ خانگی ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کرنے والے بااثر افراد علاقہ کے آبرسانی عہدیداروں سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے علاقوں میں پانی کی سربراہی کو متاثر کررہے ہیں۔ اِسی طرح پرانے شہر کے بعض علاقوں سے اِس بات کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کئی مقامات پر دو تین برس قبل نئی پائپ لائن کی تنصیب کو منظوری دی جاچکی ہے لیکن آبرسانی کے ٹھیکہ داروں کی جانب سے پائپ لائن کی تنصیب عمل میں نہیں لائی جارہی ہے جس کی وجہ مقامی ’’واٹر مافیا‘‘ ہے۔ واٹر مافیا پر کنٹرول کے لئے کوئی میکانزم نہ ہونے کے سبب مافیا کی یہ سرگرمیاں عروج پر پہونچتی جارہی ہیں اور بیشتر پانی فروخت کرنے والوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب اُن کے خلاف کوئی آواز اُٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ مجبوری میں اُن ہی افراد سے پانی خرید کر استعمال کررہے ہیں۔ جن لوگوں کے واٹر پلانٹس ہیں اُنھیں مختلف لائسنس حاصل کرنے کے ہیں لیکن بیشتر واٹر پلانٹس کے مالکین کے پاس کسی قسم کے لائسنس موجود نہیں ہیں بلکہ وہ بورویل سے حاصل کردہ پانی کو صاف کرتے ہوئے پیاکیجڈ ڈرنکنگ واٹر کے نام پر فروخت کررہے ہیں۔ شہر میں یہ کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے جس پر کوئی نگرانی نہ ہونے کے سبب نہ صرف زیرزمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے بلکہ شہریوں کو بہ حالت مجبوری پانی خریدنا پڑرہا ہے۔ موسم گرما کے اختتام کے لئے ابھی تقریباً دو ماہ کا عرصہ باقی ہے۔ اگر اِس دوران بھی یہی صورتحال برقرار رہی تو واٹر مافیا کی یہ سرگرمیاں اور تیز ہوسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT