Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / واٹر ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی میں شفافیت ضروری

واٹر ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی میں شفافیت ضروری

ملازمین اعلیٰ عہدیداران سے زیادہ چالاک، بدعنوانیوں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) عظیم تر بلدیہ کے احاطہ میں 9.8 لاکھ کنکشنس کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ کرنے والا حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس جن مقامات پر پائپ لائن نہیں ہے وہاں ٹینکرس کے ذریعہ مفت پینے کا پانی سربراہ کرتا ہے اور جن مقامات پر نل کنکشن ہونے کے باوجود ضرورت کے مطابق پانی نہ ملتا ہو ایسے مقامات پر 5 ہزار لیٹر کے پانی کی ٹینک گھریلو استعمال کیلئے 500 روپئے اور تجارتی استعمال کیلئے 800 روپئے میں فراہم کیا جارہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے احاطہ میں واقع 84 فلنگ اسٹیشنوں سے ٹینکرس کے ذریعہ تین تا چار ایم ڈی جی پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ یہ اسکیم بعض عہدیداران و ملازمین کیلئے بدعنوانیوں کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ذخائر آب کو میٹرس اور ٹینکرس کو جی پی ایس سے مربوط کرنے کے باوجود بدعنوانیوں پر روک نہیں لگ رہی ہے۔ جو واٹر ٹینکس مفت سربراہ کئے جاتے ہیں ان سے 1200-800 روپئے وصول کئے جارہے ہیں اور واٹر بورڈ کی ملکیت میں 200 مفت ٹینکرس اور 800 ادائیگی رقم ٹینکرس ہیں اور جن علاقوں میں پائپ لائنس کی سہولت نہیں ہے وہاں پر پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ عہدیداران پانی کی اس غیرقانونی تجارت کو روکنے کیلئے اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں ملازمین بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں۔ ملازمین عہدیداران سے زیادہ چالاک ہیں اور ملازمین میٹرس میں خردبرد کرتے ہوئے ٹینکرس میں پانی بھر رہے ہیں۔ ایک ذخیرہ آب سے مسلسل 20-15 ٹینکرس پانی حاصل کیا جارہا ہے مگر 30 فیصد نقلی بکنگ ہی ہوتی ہے اور جن مقامات پر مفت ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جانا ہوتا ہے وہاں غیرضروری مشکلات کا ادعا کرتے ہوئے واٹر ورکس کو نقصان سے دوچار کررہے ہیں۔ موسم گرما کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور مسلسل 1400 ٹینکرس بک کئے جارہے ہیں جن میں 90 فیصد گھریلو استعمال کے تحت ہی بک کئے جارہے ہیں اور عہدیداران پانی کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے مقصد سے واٹر ٹینکس کو جی پی ایس سے مربوط کردیئے ہیں اور بدعنوان ملازمین بکنگ میں بتائے گئے علاقوں میں ہی دیگر افراد کو پانی سربراہ کرتے ہوئے بدعنوانیوں میں ملوث ہورہے ہیں۔ روزانہ 1000 مفت واٹر ٹینکرس میں سے 200 ٹینکرس پانی غیرقانونی طور پر فروخت کردیا جارہا ہے اور ایک واٹر ٹینک 1200-800 روپئے میں فروخت کررہے ہیں اور 200 ٹینکرس کی فروخت سے 2 سے 2.5 لاکھ روپئے عہدیداران اور ملازمین ہڑپ کررہے ہیں۔ میٹرو واٹر ورکس عہدیداران کو چاہئے کہ ذخائر آب کے پاس ایسے میٹرس نصب کریں کہ ملازمین میٹرس میں ٹیامپرنگ نہ کرپائیں یا کرنے کی صورت میں فوری ٹیامپرنگ کا پتہ چل جائے اور مفت ٹینکر مختص مقامات پر پانی سربراہ کررہے ہیں یا نہیں اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ مفت ٹینکرس کے معاملہ میں سوشیل آڈٹنگ کرنا بہتر ہوگا اور جی پی ایس سسٹم کی کارکردگی پر خصوصی نظر رکھی جائے اور موسم گرما کی مناسبت سے ذخائر آب پر کڑی نظر رکھتے ہوئے متعلقہ مقامات پر واٹر ٹینکرس کی سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT