Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / واٹس اپ دعوت دین کا بہترین ذریعہ

واٹس اپ دعوت دین کا بہترین ذریعہ

بچے بوڑھے جوان اور گھریلو خواتین سب استعمال کرنے لگے ، یومیہ 70 ارب پیامات ، ایک ارب تصاویر اور 200 ملین ویڈیوز کی شیرنگ

بچے بوڑھے جوان اور گھریلو خواتین سب استعمال کرنے لگے ، یومیہ 70 ارب پیامات ، ایک ارب تصاویر اور 200 ملین ویڈیوز کی شیرنگ
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( محمد ریاض احمد ) : سماجی رابطے کی سائٹس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ اس کے ذریعہ نوجوان نسل میں اخلاقی گراوٹ کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ معاشرہ میں بے ہودگی و بے شرمی پھیلائی جارہی ہے اور اس طرح کی سائٹس کا مقصد صرف اور صرف برائیوں کا فروغ ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح کی سائٹس اور ایپس ( اپلیکیشن ) کا مقصد یہی ہو لیکن ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ بدنیت عناصر مکرو فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماجی رابطوں اور اپلیکیشن کی آڑ میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے خواہاں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ مکر و فریب کا جال بننے والے خود اس جال میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ۔ آج کل سماجی رابطے کی سائٹس دعوت دین کا موثر ذریعہ بن گئی ہیں خاص طور پر میسجنگ اپلیکیشن واٹس اپ تو بلالحاظ مسلک ہر کسی کے لیے تبلیغ دین کا بہت اہم ذریعہ بن گیا ہے ۔ سنت الجماعت ، تبلیغی جماعت ، جماعت اسلامی اور اہلحدیث کے علماء اور طلبہ کے لیے واٹس اپ معاشرہ میں نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کو مٹانے کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔ مولانا طارق جمیل لندن کے کسی سنٹر میں دعوت دین پر لکچر دے رہے ہوں تو چند منٹوں میں اس کی ویڈیو کا واٹس اپ پر آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔ اپنے منفرد انداز کے لیے مشہور ڈاکٹر ذاکر نائک کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے ہاتھوں شاہ فیصل ایوارڈ حاصل ہوتا ہے تو اس کی تمام تفصیلات چند لمحوں میں واٹس اپ کے ذریعہ ہم تک پہنچ جاتی ہیں ۔ اسی طرح علامہ طاہر القادری کا کہیں خطاب ہوتا ہے تو واٹس اپ پر منٹوں میں ہم ان کے خطاب کی سماعت کرسکتے ہیں ۔ واٹس اپ کے ذریعہ بچے بوڑھے جوان خواتین اور طالبات سب کے سب احادیث رسول ﷺ ، حمد باری تعالیٰ ، نعتیں ، دل و دماغ کو جذبہ ایمانی سے سرشار کرنے والی نظمیں وغیرہ شیر کررہے ہیں ۔ اس میسجنگ اپلیکیشن پر لوگ دین و دنیا کی معلومات کو شیر کرتے ہوئے اس کا بہت ہی اچھا استعمال کررہے ہیں ۔ گھروں میں ماں باپ اپنے بچوں کو واٹس اپ پر موصول ہونے والے دینی پیامات ، حکایات و اقوال زرین پڑھ کر سنا رہے ہیں ۔ علماء کے بیانات کے انہیں ویڈیوز دکھا رہے ہیں ۔ واٹس اپ ہمارے لیے روزمرہ کی ایک ضروری چیز بن گئی ہے ۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد دسمبر 2014 تک 700 ملین سے تجاوز کر گئی جب کہ ہندوستان میں 70 تا 80 ملین لوگ واٹس اپ استعمال کرتے ہیں ۔ اپریل ۔ مئی 2014 میں واٹس اپ استعمال کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد 50 ملین تھی لیکن 5-6 ماہ کے دوران ان کی تعداد میں 20 ملین کا اضافہ ہوا ۔ واٹس اپ پر یومیہ 70 ارب پیامات ، ایک ارب تصاویر اور 200 ملین ویڈیوز شیر کئے جاتے ہیں ۔ یعنی لوگ ایکدوسرے کو بھیجتے ہیں ۔ واٹس اپ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی کو کوئی گاڑی خریدنی ہو تو وہ موبائیل فون پر اس گاڑی کی تصویر لے کر واٹس اپ پر اپنے دوست احباب کو روانہ کرتے ہوئے مشورے طلب کررہا ہے ۔ اسی طرح ایک ہاسپٹل میں بیٹھے ڈاکٹر میلوں دور ہاسپٹلوں میں زیر علاج مریض کا تمام میڈیکل ریکارڈ ، اس کی تصویر اور موقف کا واٹس اپ پر جائزہ لے رہا ہے ۔ میڈیا میں شائع رپورٹس کو بھی لوگ بڑے اہتمام سے واٹس اپ پر شیر کررہے ہیں ۔ سیاست میں شائع کئی ایک رپورٹس ہر روز شیر کی جاتی ہیں ۔ واٹس اپ پر اسکولس کے انتظامیہ طلباء کی تعلیمی حالت کے بارے میں بھی والدین کو واقف کروارہے ہیں ۔ بہر حال واٹس اپ دعوت دین سے لے کر تجارتی ضروریات کی تکمیل کا ایک بہترین ذریعہ بن گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان چاہے تو ہر چیز کا استعمال بہتر انداز میں کرسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT