Friday , August 17 2018
Home / ہندوستان / واٹس اپ پر یونیورسٹی پروفیسر کی طلاق کی مذمت

واٹس اپ پر یونیورسٹی پروفیسر کی طلاق کی مذمت

ہر شخص کی ایودھیا میں رام مندر کی تائید ،یو پی کے ریاستی وزیر محسن رضا کا بیان
نئی دہلی ۔ 13 ۔ نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے وزیر محسن رضا نے آج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر پر تنقید کی، جس نے مبینہ طور پر واٹس اپ کے ذریعہ اپنی بیوی سے طلاق طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وہ ایک تقریب کے موقع پر علحدہ طور پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کے مسئلہ پر تبادلہ خیال درست راہ پر گامزن ہے۔ بیشتر افراد جلد ہی ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی تائید میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ شریعت کا حصہ نہیں ہے۔ جب سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو برخواست کردیا تو کیا کوئی قانون کی خلاف ورزی کرسکتا ہے ۔ جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کریں ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ، آخر یہ شخص پروفیسر کیسے بن گیا جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے طلاق ثلاثہ کی برخواستگی کے بعد اس نے واٹس اپ پر اپنی بیوی کو کیسے طلاق دی۔ محسن رضا نے وزارت مواصلات کے ایک جلسہ کے موقع پر جس میں بھارت نیٹ پراڈ کاسٹنگ پراجکٹ برائے دیہی علاقے دوسرے مرحلہ کے آغاز کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر کی بیوی ہے، اپنے شوہر پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے واٹس اپ کے ذریعہ طلاق دیدی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتہ سے یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ پروفیسر نے بیان دیا ہے کہ اس کی کارروائی قانون کے حدود میں ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو مقررہ وقت میں دو نوٹسیں روانہ کی تھیں۔ پروفیسر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ اپنے ماضی کے بارے میں اس کی بیوی نے اسے گمراہ کیا تھا ۔ محسن رضا نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں خواتین کی با اختیاری کی پابند ہے اور اس خاتون کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے گا۔ رام مندر مسئلہ پر محسن رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ تبادلہ خیال اور تنازعہ کی یکسوئی کے متبادل کی اجازت دے چکی ہے۔ حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ بات چیت کیلئے تیار ہے۔ ہر شخص ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جلد از جلد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تائید میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT