Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / واگھیلا اور سنجے نروپم کانگریس کیلئے نقصاندہ لیڈرس

واگھیلا اور سنجے نروپم کانگریس کیلئے نقصاندہ لیڈرس

ہندوتوا کی حمایت کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ، آئندہ انتخابات کی بہتر تیاری اور سیکولرازم کو فروغ دینے کا اب بھی موقع
احمدآباد ۔ 23 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے سینئر لیڈر شنکر سنہ واگھیلا نے پارٹی سے علحدگی اختیار کرلی اور میڈیا میں یہ خبریں عام ہورہی ہیں کہ ایسے وقت جبکہ اسمبلی انتخابات کے لئے بمشکل چھ ماہ کا وقت ہے ، واگھیلا کی علحدگی سے کانگریس پارٹی نقصان سے دوچار ہوگی۔ اس معاملے میں جو اہم پہلو ہے اُس پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔ سب سے پہلی بات یہ ہیکہ شنکر سنہ واگھیلا ایک کٹر آر ایس ایس حامی ہیں ۔ اُنھیں گجرات کانگریس کا صدر بنانا خود ایک غلطی ہے ۔ اس کی وجہ سے ہندوتوا نے گجرات کو کافی نقصان پہنچایا اور عوام تقسیم ہوکر رہ گئے ۔ کانگریس کو چاہئے کہ گجرات کے اس تجربہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایسا قدم اُٹھائے جو پارٹی کے مفاد میں ہو۔ ہندوتوا نظریات کے حامل واگھیلا کا بحیثیت صدر تقرر کرنے کی وجہ سے ریاست میں سیاسی صورتحال کچھ اس طرح ہوگئی تھی جیسے ہندو اور مسلمان مستقل جنگ کی حالت میں ہوں۔ فرقہ وارانہ سیاست ریاست کا اہم حصہ بن گئی ۔ واضح رہے کہ شنکر سنہ واگھیلا نے 1997 ء میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد سے اگر انتخابی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کو کبھی اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کامیابی نہیں ملی ۔ آخر کانگریس نے اُصولوں سے سمجھوتہ کیوں کیا؟ اگر کانگریس پارٹی نہرو کے سیکولرازم پر ایقان رکھتی ہے تو سب سے پہلے اُسے دوہرا معیار رکھنے والوں کو باہر کا راستہ دکھادینا چاہئے ۔ اسی قاعدے کا اطلاق مہاراشٹرا میں کانگریس سربراہ سنجے نروپم بھی ہوتا ہے ۔

وہ کانگریس پارٹی کے سربراہ ہیں لیکن اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ وہ ایک کٹر شیوسینک ہے ۔ شنکر سنہ واگھیلا اور سنجے نروپم نے ایک جگہ کی قیادت سے ہٹ کر دوسری جگہ پھر وہی قیادت سنبھال لی اور انھوں نے اپنے اصولوں میں کبھی تبدیلی نہیں لائی ۔ اس کی وجہ سے کانگریس جیسی جماعت کیلئے وہ بالکل ناموزوں ہیں۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ 2019 ء عام انتخابات میں کانگریس کس طرح مقابلہ کرے ؟ ہندوستان اور ہندوستانی شہریوں کو ہندوتوا کے نام پر جو نقصان پہنچایا جارہا ہے اُس تناظر میں یہ واضح ہے کہ مخالف ہندوتوا پلیٹ فارم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مخصوص عوامل جیسے نوٹ بندی وغیرہ کو بھی اپوزیشن جماعتیں عوام کے سامنے پیش کرسکتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوتوا کے حامیوں کو ہندوستان میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور یہاں کی تہذیب سیکولر ہے ۔ چنانچہ اس تہذیب کو دانستہ طورپر نقصان پہونچانے والوں کے خلاف متحد ہونا ضروری ہے ۔ کانگریس اس حقیقت کا اندازہ کرے اور پارٹی کا نعرہ یہی ہونا چاہئے کہ ’’ہندوستانی عوام ایک ہیں، ہمیں ہندوتوا کے ذریعہ تقسیم نہیں کیا جاسکتا ‘‘ ۔یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ طاقتور موقف کے حامل قائدین کی مختلف اقسام ہوتی ہیں ۔ فلپائن کے صدر یا امریکہ کے صدر کا موقف جہاں بالکل سخت ہے اُس کے برعکس نریندر مودی نرم رویہ میں بات کرتے ہیں اور وہ اپنی بات دوسروں سے کہلواتے ہیں ۔ وی پی سنگھ نے کہاتھا کہ ہندوتوا کے بارے میں اگر آپ کو جاننا ہو تو اس کے قائدین نہیں بلکہ اُن سے وابستہ عوام کی بات سنی جائے۔  ہندوتوا صرف تین اُمور سب سے پہلا رام مندر ، دوسرا یکساں سیول کوڈ اور تیسرا دفعہ 370 تک محدود تھا اور بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے بعد چوتھا سیاسی مطالبہ بھی اس میں شامل ہوگیا وہ یہ کہ مسلمان اپنے کھانے کے عادت و اطوار تبدیل کریں۔ ہندوتوا نے اب منفی اور جارحانہ روش اختیار کرلی ہے ۔ گجرات میں بھی گزشتہ دو دہوں سے کانگریس نرم فرقہ پرستی کا شکار رہی لیکن اب اُسے موقع فراہم ہوا ہے کہ اپنا موقف تبدیل کرے۔

TOPPOPULARRECENT