وجہ نمائی نوٹس وصول نہیں ہوئی۔ ساکشی مہاراج کا دعویٰ

نئی دہلی۔/13جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے متنازعہ رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے آج کہا ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کے بعض ریمارکس پر پارٹی نے کوئی وجہ نمائی نوٹس روانہ کی ہے اور بتایا کہ یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے ، مجھے کسی نوٹس کا کوئی علم نہیں ہے۔ اگر پارٹی نے کوئی نوٹس جاری کی ہے تو میرے آفس پر وصول ہوجاتی، لیکن ایس

نئی دہلی۔/13جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے متنازعہ رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے آج کہا ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کے بعض ریمارکس پر پارٹی نے کوئی وجہ نمائی نوٹس روانہ کی ہے اور بتایا کہ یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے ، مجھے کسی نوٹس کا کوئی علم نہیں ہے۔ اگر پارٹی نے کوئی نوٹس جاری کی ہے تو میرے آفس پر وصول ہوجاتی، لیکن ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے میڈیا سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ اگر میں نے کچھ غلط کہا ہے تومیری پارٹی نوٹس دینے پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ ساکشی مہاراج جو کہ لوک سبھا میں اوناؤ کی نمائندگی کرتے ہیں اور آج صبح ہی بذریعہ ٹرین قومی دارالحکومت پہنچے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر جب میڈیا کے نمائندوں نے وجہ نمائی نوٹس کے بارے میں سوالات کی بوچھار کردی تو کسی قدر برہم نظر آئے اور جواب دینے سے گریز کیا۔ صدر بی جے پی امیت شاہ کی ہدایت پر کل ساکشی مہاراج کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ وضاحت طلب کی گئی ہے کہ حالیہ ان کے متنازعہ بیانات پر کیوںنہ کارروائی کی جائے اور اندرون 10یوم جواب دینے کیلئے کہا گیا

اور دریافت کیا گیا کہ انہیں انتباہ دینے کے باوجود پارٹی کے نظریات کے خلاف متنازعہ بیانات کیوں دیئے ۔ واضح رہے کہ ساکشی مہاراج نے یہ بیان دیتے ہوئے تنازعہ کھڑا کردیا تھا کہ ہندو خواتین کم از کم 4بچے پیدا کریں ۔جس پر اپوزیشن نے اعتراض کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت سماج میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں ہے تاہم بی جے پی نے مہاراج کے بیان سے اظہار لاتعلقی کرلیا اور پارٹی کارکنوں اور عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ متنازعہ بیانات دینے سے احتیاط برتیں۔ قبل ازیں ساکشی مہاراج نے مہاتما گاندھی کے مبینہ قاتل ناتھ رام گوڈسے کی محب وطن قرار دے کر تنازعہ پیدا کردیا تھا، اور اسوقت بی جے پی نے انہیں خبردار بھی کیا تھا۔دریں اثناء ساکشی مہاراج کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی ترجمان شاہنواز حسین سے کہا کہ پارٹی کااس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس مسئلہ پر ان سے وضاحت کی گئی ہے۔ بی جے پی ترجمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ والدین کے اختیار میں ہے کہ انہیں کتنے بچے چاہیئے اور باہر کا کوئی آدمی کسی کے ذاتی معاملات میں فیصلہ نہیں کرسکتا۔ آبادی کے مسئلہ پر بی جے پی کے نقطہ نظر کے بارے میں شاہنواز حسین نے کہا کہ ترقی کے مفاد میں آبادی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT