Thursday , November 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / وجیندر سنگھ کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ‘ ایشیا ۔پیسیفک خطاب جیت لیا

وجیندر سنگھ کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ‘ ایشیا ۔پیسیفک خطاب جیت لیا

تنزانیہ کے سابق ورلڈ چمپئن فرانسیس چیکا کے خلاف 10 منٹ سے کم وقت میں ناک آوٹ کامیابی
نئی دہلی 18 ڈسمبر ( پی ٹی آئی )  ہندوستان کے باکسنگ اسٹار وجیندر سنگھ نے ڈبلیو بی او ایشیا ۔ پیسیفک خطاب برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ۔ انہوںنے فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے خطاب کا دفاع کیا ۔ اس کامیابی کے بعد آئندہ دو مہینوں میں وجیندر سنگھ کو دولت مشترکہ یا اورئینٹل خطاب کیلئے مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے ۔تنزانیہ کے سابق ورلڈ چمپئن فرانسیس چیکا کے خلاف اپنے سوپر مڈل ویٹ خطابی مقابلہ میں جو کل رات ہوا وجئیندر سنگھ نے 10 منٹ سے بھی کم وقت میں ناک آوٹ کامیابی حاصل کرلی اور اپنے پروفیشنل کیرئیر میں وہ اب ناقابل تسخیر رہنے کا ریکارڈ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک وہ آٹھ مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں اور تمام میں انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اب انہیں لیسسٹر میں دولت مشترکہ خطاب کا مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے ۔ دولت مشترکہ سوپر مڈل ویٹ کا خطاب فی الحال برطانوی باکسر لیوک بلیک لیج کے پاس ہے جنہوں نے اب تک 22 مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ دو مقابلے ڈرا رہے ہیں اور تین میں انہیں شکست ہوئی ہے ۔ وہ اب تک اپنے پروفیشنل کیرئیر میں 27 مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ وجیندر سنگھ نے کل رات کی اپنی کامیابی کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال کیلئے انہوںنے ابھی تک کوئی منصوبے تیار نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں مقابلہ کرنا ہو یا بیرون ملک مقابلہ کرنا ہواس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہم صرف آئندہ مقابلہ کے باکسر کے تعلق سے سوچتے ہیں۔ تاہم وجیندر سنگھ کو پروموٹ کرنے والی کمپنی انفینیٹی آپٹیمل سولیوشنس کے ایم ڈی نیرو تومر نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی اس پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ وجیندر کو ہوسکتا ہے کہ برطانیہ جانا پڑے ۔ یا پھر ان کے مقابلے چین یا پھر دوبئی میں بھی ہوسکتے ہیں۔ بات صرف ہندوستان میں مقابلہ کرنے کی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ مقابلہ لیسسٹر میں منعقد کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ وہاں ہندوستانیوں کی آبادی بہت زیادہ ہے ۔ آئندہ سال اس امکان پر زیادہ توجہ رہے گی ۔ ہم آئندہ مقابلہ کے تعلق سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو ایک نئے خطاب کیلئے جدوجہد کرنا پڑیگا کیونکہ اب وجیندر سنگھ ڈبلیو بی او ۔ ایشیا ۔ پیسیفک خطاب جیت چکے ہیں۔ ہم کو نہ صرف دولت مشترکہ خطاب کیلئے بلکہ ایک بین بر اعظمی خطاب کیلئے بھی کوشش کرنی پڑسکتی ہے  ۔ روس سے تعلق رکھنے والا ایک اچھا باکسر بھی میدان میں ہے ۔ اور ایک چینی باکسر بھی ہے ۔ آئندہ ایک دو ماہ میں اس پر تبادلہ خیال ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ہم ڈبلیو بی یوروپین خطاب کیلئے بھی جدوجہد کریں کیونکہ وجیندر سنگھ اکثر برطانیہ میں مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں وہ یوروپین خطاب کیلئے بھی جدوجہد کرسکتے ہیں اور اس کیلئے کوالیفائی ہوسکتے ہیں۔ وجیندر نے تاہم اپنے مقابلہ کے تعلق سے ہی اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی کو کل شہید ہوئے ہندوستانی فوجیوں کے نام کرتے ہیں۔ انہیں اس مقابلہ سے قبل جب تین سپاہیوں کی ایک حملے میں موت کی اطلاع ملی تو انہیں بہت خراب محسوس ہوا تھا ۔ وہ اس کامیابی کو ان تمام سپاہیوں کے نام معنون کرتے ہیں جو جاریہ سال شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستانی فوجیوں کے بغیر کچھ نہیں ہیں ۔ تین سپاہیوں کا ایک دہشت گرد حملہ میں فوت ہوجانا افسوسناک اطلاع تھی ۔

TOPPOPULARRECENT