Monday , December 18 2017
Home / مضامین / وحدتِ ملّی وقت کی اہم ترین ضرورت

وحدتِ ملّی وقت کی اہم ترین ضرورت

مولانا محمد رابع حسنی ندوی
اس وقت ملت اسلامیہ کے مقاصد کے نام سے جگہ جگہ کوششیں ہورہی ہیں ،جد وجہد اور تحریکیں بھی چل رہی ہیں ۔ قربانیاں بھی دی جارہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں نوجوان عنصر سے بھی بڑی طاقت مل رہی ہے بلکہ اکثر ملی اور قومی تحریکوں اور کوششوں میں وہ پیش پیش ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں اور مخالف طاقتوں سے لوہا منوارہے ہیں ۔ نوجوان ہر ملت اور قوم کے لئے بڑی طاقت اور بڑا سہارا ہوتا ہے اور اس کے جذبہ و جوش سے مقصد کے حصول میں بڑی مدد ملتی ہے ۔ یہ حقیقت جس طرح ماضی میں جانی گئی تھی اس سے کہیں زیادہ حال میں جانی جارہی ہے ، اسی لئے ہر جگہ اس طاقت کو اپنانے اور اس سے کام لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ نوجوانوں کو متوجہ کرنے ، ان کو قریب کرنے اور ان کو متحرک کرنے کے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ، لیکن یہ جائزہ لینے کی بات ہے کہ نوجوانوں کے جذبات کو یہ متحرک کرنے والے کہاں تک بامقصد ہیں ، نوجوانوں سے کمیونسٹ تحریک بھی کام لیتی ہے ، نوجوانوں سے انقلاب پسند طاقتیں بھی مدد لیتی ہیں ، نوجوانوں سے باغیانہ عناصر بھی مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں اور نوجوانوں سے نیک و اعلی مقاصد رکھنے والے بھی کام لیتے ہیں اور ہر ایک کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھالیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں مسرور کن مثالیں بھی ہیں ، دراصل نوجوان عنصر ایک طاقت ہے ، ایک دھارا ہے ، صحیح رخ پر لگے تو راستہ کی چٹان کو پاش پاش کردے اور مقصد کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو بہالے جائے اور اگر غلط رخ پر لگے تو دشمن کو روکنے والی فصیلوں کو توڑ دے اور عظیم قدروں کی بنیادوں کو بھی ہلادے ۔ نوجوانوں کی اس طاقت و صلاحیت کی پوری قدر کی ضرورت ہے اور اس سے کام لینے میں اجتماعی و قومی مصلحت کا خیال رکھنے اور تعمیری جذبہ سے کام لینے کی ضرورت ہے اور یہ کام ملت کی قیادت کا ہے کہ وہ غور کرکے فیصلہ کرے کہ اس کو نوجوانوں کو کس طرف چلانا ہے اور ان کی طاقت سے کیا کام لینا ہے ۔ امت اسلامیہ صدیوں سے پسماندگی ، انتشار اور بے بضاعتی کی زندگی گزارتے گزارتے پست ہمت ہوچکی ہے ۔ اس میں سنجیدگی اور قوت عمل کی خاص کی پیدا ہوگئی ۔ اپنی شاندار تاریخ کے مطالعہ سے تمناؤں اور توقعات کے اس کے سامنے باغات لگ جاتے ہیں ، لیکن یہ باغات ماضی کے ہیں ، حال کے لئے ہم کو خود باغ لگانا ہے ، ماضی  پر تکیہ کرکے بیٹھے رہنا سراب سے امید لگانا ہے ، دیگر قوموں کی طرح ہماری ملت کوبھی یقیناً نوجوانوں کی طاقت کی بڑی ضرورت ہے اور شاید اس آخر الذکر کی ضرورت اول الذکر سے کہیں زیادہ ہے ، کیونکہ یہ کام قیادت کا ہے کہ ملت کی طاقتوں کو صحیح رخ پر لگائے اور غلط رخ پر اس کے لگنے کے برے نتائج سے امت کو بچائے ۔
موجودہ ملت اسلامیہ کی قیادت اسی ملت سے ابھری ہے ، چنانچہ اس کو بے عملی اور بے خیالی اسی ملت سے ورثہ میں ملی ہے ، یہ قیادت جو کہ بے شمار حصوں اور قسموں میں بٹی ہوئی ہے ، علی العموم اپنا معیار و مقصد مقرر نہیں کرسکی ہے ۔ اس کے یہ حثے کچھ تو باہم دست و گریباں ہیں ، کچھ بے قصد جد وجہد میں مبتلا ہیں اور کچھ محض جذبات میں سرشار ہیں ۔ اور جو جذبات پسند عناصر ان کو ہاتھ آگئے ہیں ان کی طاقتوں کو غیر حقیقی کوششوں میں ضائع کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں کی قیادت کی تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ان کی قیادت نے وقت کی صحیح ضرورت کو سمجھا اور اخلاص کے ساتھ اس پر محنت کی تو اس کے نتیجے میں ناقابل تصور نتائج حاصل کئے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی متعدد مسلم سلطنتوں میں سے صرف ایک محدود سلطنت کے مالک تھے لیکن انھوں نے اپنی قیادت کو اخلاص کے ساتھ صحیح رخ پر لگایا تو وقت کا سب سے بڑا کارنامہ انجام دیا اور وہ تھا فتح بیت المقدس کا کارنامہ جس کو آج تک سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا ہے اور تاقیامت لکھا جاتا رہے گا ، لیکن ہمارے موجودہ عہد کا ایک بڑا فتنہ ملت اسلامیہ کا انتشار اور بے مقصدیت ہے ۔ دوسرا ایک فتنہ ہر کس و ناکس کا شوق قیادت ہے ۔ ہماری ملت اسلامیہ میں یہ شوق مرض کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ اس شوق نے ایک پیشہ کی شکل بھی اختیار کرلی ہے ۔ قیادت کے یہ خواہش مند خواہ قیادت کی معمولی صفات و خصوصیات سے بھی عاری ہوں لیکن اس کام کو پورے شوق و جوش سے اپناتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے امت قیادتوں میں الجھ کر رہ گئی ہے اور اس میدان شوق میں ہمارے نوجوان بھی اپنے ذوق کے بقدر حصہ لیتے رہتے ہیں ، جو میدان زندگی میں نئے نئے داخل ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے پاس تجربات کے مقابلے میں جوش کا سرمایہ زیادہ ہوتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہوش کے موقعوں پر بھی جوش سے مسئلہ حل کرنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بات خطرہ کی خاص علامت بن گئی ہے ۔
اس وقت ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خود نمائی بے مقصد اظہار اور خالی خولی آرائش سے پرہیز کریں ، اس زمانے کے اہم ترین فتنوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے تدارک کے لئے پورے ہوش و اخلاص سے حل تلاش کیا جائے ، امت کو وحدت اور مقصدیت کی بھی بڑی ضرورت ہے ، تاکہ ہم مضبوط ہوں اور کسی بھی دشمن کے مقابلہ کے لئے امت اس طرح سامنے آئے جس طرح قرآن مجید کی اس آیت میں بتایا گیا ہے ۔مفہوم : ’’کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT