Monday , January 22 2018
Home / ہندوستان / ودودرہ میں تازہ تشدد کے بعد شدید حفاظتی انتظامات

ودودرہ میں تازہ تشدد کے بعد شدید حفاظتی انتظامات

ودودرہ۔ 28؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ حفاظتی انتظامات میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے ایس آر پی ایف کی دو مزید کمپنیاں تازہ تشدد کے واقعات کے بعد جو شہر کے ایک علاقہ میں ہوئے، تعینات کردی گئیں۔ اس شہر میں گزشتہ تین دن سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد یاقوت پورہ، پنجراپول، فتح پورہ اور کمبھرواڑہ علاقوں سے جمعرات کے دن شروع ہوا ت

ودودرہ۔ 28؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ حفاظتی انتظامات میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے ایس آر پی ایف کی دو مزید کمپنیاں تازہ تشدد کے واقعات کے بعد جو شہر کے ایک علاقہ میں ہوئے، تعینات کردی گئیں۔ اس شہر میں گزشتہ تین دن سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد یاقوت پورہ، پنجراپول، فتح پورہ اور کمبھرواڑہ علاقوں سے جمعرات کے دن شروع ہوا تھا جب کہ ایک مذہب کے بارے میں اہانت انگیز متن سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ فیس بک پر شائع کیا گیا تھا۔ جمعہ کے دن بعض چھوٹے موٹے واقعات کی خبر ملی۔ پولیس نے حریف گروہوں کو منتشر کرنے کے لئے جو یاقوت پورہ، پنجراپول، فتح پورہ، کمبھرواڑہ اور دیگر علاقوں میں ایک دوسرے پر سنگباری کررہے تھے،

آنسو گیس استعمال کی۔ کل دن بھر صورتِ حال معمول پر تھی، لیکن جگمالنی پول علاقہ سے کل رات چاقوزنی کے ایک واقعہ کی اطلاع ملی۔ ودودرہ سٹی کے جوائنٹ پولیس کمشنر ڈی جے پٹیل نے آج کہا کہ اس حملہ کے بعد سنگباری کے اِکا دُکا واقعات پانی گیٹ، واڑی، میمن کالونی، اجوا روڈ اور نواپورہ کے علاقوں میں پیش آئیں۔ پولیس کو آنسو گیس شیل استعمال کرنے پڑے۔ تین علاقوں میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی،

لیکن پولیس کارروائی میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ مزید اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس (ایس آر پی ایف) کی کمپنیوں کی آمد کے بعد شہر میں تعینات کمپنیوں کی جملہ تعداد 13 ہوگئی۔ علاوہ ازیں آر اے ایف، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف میں سے ہر ایک کی ایک کمپنی بھی تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کے سینئر عہدیدار فوری متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے اور صورتِ حال پر قابو پالیا۔ انھوں نے گڑبڑ زدہ علاقوں میں آج صبح کی اولین ساعتوں تک سخت چوکسی کا ادعا کیا ہے۔ تقریباً 100 اشرار کو گڑبڑ زدہ علاقوں سے تاحال گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کل شہر میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ سہولت احتیاطی اقدام کے طور پر معطل کردی گئی تھی تاکہ افواہوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے جن کے نتیجہ میں کشیدگی پھیلنے کا اندیشہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT