Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / وراثت کے احکام

وراثت کے احکام

اسلام کا نظام حیات ایک جامع اور مکمل نظام ہے، جو خالق کائنات کا دیا ہو ا ہے اس لئے انسانوں کے تمام احوال و ظروف کا اس میں پورا لحاظ ملتا ہے، انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل اسلام کا نظام حیات پیش کر تاہے، انسانی احساسات و جذبات اور اس کے فطری تقاضوں او ر طبعی رحجانات کی جیسی کچھ رعایت اسلام کے نظام حیات میں ملتی ہے اس کی کوئی نظیر کسی اور نظام حیات میں نہیں دیکھی جا سکتی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کر کے اس کے دیئے ہوئے نظام حیات پر عمل پیرا ہو نے میں انسانیت کی دنیاوی صلاح و فلاح اور اُخروی کا میابی وکامرانی کا راز مضمر ہے۔ اسلام کے اس فطری نظام حیات پر عمل کے بغیر نہ انفرادی طور پر ایک انسان چین و سکون پا سکتا ہے نہ ہی اجتماعی طور پر کو ئی انسانی معاشرہ راحت و رحمت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اسلام کا نظام حیات معاش و معاد  ہر دو کے مسائل کا مکمل حل پیش کر تا ہے یعنی پیدائش سے لیکر موت تک کی زندگی کے سارے مسائل کے حل کے ساتھ موت اور مابعد الموت احوال و معاملات کی کامل رہبری و رہنمائی اسلام کے نظام حیات میں ملتی ہے۔تجارت و کاروبار، ملازمت و زراعت وغیرہ جیسے اسباب معاش اختیار کر نے اور جائز ذرائع سے مال و دولت کی تحصیل، رہائش و تجارتی اغراض کیلئے مکان و جائداد کی تعمیر وغیرہ انسانی سماجی زندگی کا لازمہ ہیں جن سے انسان زندگی تمام استفادہ کر تا ہے اور متعلقین بھی اس سے مستفید ہو تے ہیں اس لئے اسلام نے جائز ذرائع سے اس کی تحصیل کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اور جائز ذرائع سے کمائے ہو ئے اثاثہ سے کچھ نہ کچھ اپنے وارثین کیلئے چھوڑ جانے کو پسند کیا ہے تاکہ مورث کے متروکہ مال سے وارثین کو سہارا مل سکے۔اور وہ محتاج اور بے یار و مددگار نہ رہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انسان (مورث) کی موت کے بعد اس کے یہ اسباب معیشت وارثین میں کس تناسب سے تقسیم ہونگے، موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی اس کا منصفانہ حل اور عادلانہ جواب سوائے اسلام کے کسی اور کے ہاں نہیں۔نہ تو باطل مذہب کے پر ستاروںکے ہاں نہ ہی مذہب بیزار دعویدار ان انسانیت کے ہاں۔ نہ تو اسلام سے قبل جاہلانہ و متوھمانہ سماج میں اس کا کوئی عادلانہ و منصفانہ حل تھا۔اسلام سے قبل تو انسانیت سوز ظالمانہ رسم و رواج نے ڈیرہ جما رکھا تھا، مرنے والے کی جائیداد اور اموال کا استحقاق مر نے والے کی بیوہ اور اس کی یتیم اولاد کے بجائے طاقت و قوت کے بل بوتے پر غیر افراد کویا مورث کی بڑی اولاد کو حاصل ہو جا یا کر تا تھا۔ اصل حقدار ہو نے کے باوجود یتیموں اور بیواؤں کے حصے میں سوائے محرومی کے کچھ نہ آتا۔قرآن پاک میں اللہ سبحانہ نے اس جورو استبداد کی بڑی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اسلام نے وارثین کے درمیان مورث کے مال کی منصفانہ تقسیم کی بناء ڈالی ہے اور احکام وراثت میں ورثا ء اور وارثین میں خاص طور پرکمزوروں ، عورتوں، بیوائوں اور یتیموں کی بھر پور رعایت رکھی ہے، اور جو ظلم و نا انصافی دور جاہلیت میں جاری تھی اس کی بیخ کنی کی ہے۔ اس کیلئے  اسلام نے ایک مستقل علم ، علم میراث کی بنیاد رکھی ہے۔سورۃ النساء آیت ۱۱،۱۲ میں اللہ سبحانہ وتعالی نے پہلے ان حصہ داروں کا ذکر فرمایا ہے جن کے حصص قرآن پاک میں مقرر کردئے گئے ہیں ان کو ذوی الفروض یا اصحاب فرض کہتے ہیں ،ذوی الفروض میں بیٹی ،پوتی ،پڑپوتی وغیرہ ،ما ں باپ ،جد صحیح یعنی دادا ،پڑ دادا ،بیوی ،شوہر،اخیافی بھائی بہن کا شمار ہوتا ہے ،جن کے حصص مقرر ہیں ۔ذ وی الفروض کے سوا جن مرد رشتہ داروں کو وراثت میں حصہ ملتا ہے

وہ عصبات کہلاتے ہیں ،لیکن ان کے حصص مثلا ،نصف ربع ،ثمن ،ثلثان ،ثلث ،سدس وغیرہ اصحاب فرائض کی طرح مقرر نہیں ہیں بلکہ ذوی الفروض سے کوئی نہ ہو تو پورا مال متروکہ پانے والے اقرباء کو عصبات کہا جاتا ہے ۔ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصص دیئے جانے کے بعد اگر کچھ نہ بچے تو عصبات کو کچھ نہیں ملتا۔عصبات کے چار مراتب ودرجات ہیں ۔پہلے درجہ میں بیٹا ،پوتا ،پڑپوتا وغیرہ ۔دوسرے درجہ میں باپ ،دادا، پڑدادا وغیرہ۔تیسرے درجہ میں حقیقی بھائی یا علاتی اور ان کی اولاد میں اولاد ذکور یعنی بھتیجہ وغیرہ ۔چوتھے درجہ میں چچا ،چچا کی اولاد ذکور آتے ہیں ۔پہلی قسم کو فروع ،دوسری قسم کو اصول ، تیسری قسم کو حواشی ٔ قریبہ ،چوتھی قسم کو حواشی ٔ بعیدہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عورتیں راست طور پر عصبہ نہیں بنتیں بلکہ میت کا بیٹا ،پوتا وغیرہ عصبہ بن رہے ہو ں تو ان کی بہنیں یعنی میت کی بیٹی ،پوتی وغیرہ عصبہ بنتی ہیں اسی طرح میت کے بھائی عصبہ بن رہے ہوں تو ان کے ساتھ بہنیں بھی عصبہ بنیں گی۔چچا کی اولاد بیٹا وغیرہ تو عصبہ بن سکتے ہیں لیکن اس کی بہنیں یعنی چچا کی اولاداناث عصبہ نہیں بنے گی ،ذوی الفروض اور عصبات کے سوا ذوی الارحام کے احکام کی وضاحت بھی علم الفرائض میں ملتی ہے ،میت کے وہ أقرباجو ذوی الفروض اور عصبات کی کسی قسم سے نہ ہوں ذوی الارحام کہلاتے ہیں ان میں نواسہ ، نانا ، بھانجے ،ماموں ،خالہ، پھوپی اور ان کی اولاد کے تفصیلی احکام کا ذکر ملتا ہے ۔الغرض قرآن پاک اللہ سبحانہ کا معجزانہ کلام ہے، احکام میراث اور اس کی تقسیم کے تما م جزئی تفصیلات کے ساتھ سورۃ النساء کے اس ایک رکوع میں اور دو ایک جگہ بیان ہوئے ہیں اس کی بلیغانہ و معجزانہ شان کو بیان کر نے کیلئے ’’سمندر کو کوزہ میں سمونے‘‘ کی مثال بھی نا کا فی ہے۔اسلامی احکام کا اصل منبع وماخذ کتاب و سنت ہیں، قانون میراث کا تعلق اللہ کے بندوں سے ہو نے کے باوجود کتاب اللہ میں خاصی تفصیل کے ساتھ اس کے احکام بیان کئے گئے ہیں جبکہ عبادات جو حق اللہ ہیں ان کے احکام کی تفصیل اتنی شرح و بسط کے ساتھ کتاب اللہ میں مذکورنہیں۔پھر ان احکام میراث کے بیان کو ’’فریضۃ من اﷲ‘‘(النساء /۱۱)یہ حصص اللہ تعالی کے مقرر کردہ ہیں ’’ تلک حدود اﷲ‘‘ (النساء /۱۲) یہ حدیں اللہ سبحانہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ہیں سے مؤکد کیا گیا ہے، تاکہ ان احکام میراث پر عمل میں کسی طرح کا کوئی تغافل اور تساہل نہ بر تا جا سکے ۔ا

حادیث پاک میں اس کے مزید تفصیلی احکام کی وضاحت فرمائی گئی ہے اور اس کو علم فرائض سے تعبیر فر ما یا گیا اور اس کے سیکھنے ، سکھانے کی ترغیب دی گئی ہے مزید علم الفرائض کو آپ ﷺ نے ’’نصف علم‘‘ فرمایا اور فر مایا کہ قیامت کے قریب سب سے پہلے علم الفرائض کو اٹھالیا جائے گا۔’’تعلموا الفرائض وعلموھا الناس فانھا نصف العلم و ھو ینسئی و ھو اول شئی ینزع من امتی ‘‘۔ (ابن ماجۃ) چنانچہ علم الفرائض کے سیکھنے کا رحجان بہت کم ہو گیا ہے۔ عوام تو عوام مراکز علوم اسلامیہ جہاں اسلامیات کی اعلی تعلیم کا نظم ہے وہاں بھی اس علم پر دسترس رکھنے والے علماء کمیاب ہیں۔مذکورہ حدیث پاک کی اتباع میں شارحین امت نے کتاب و سنت اور اجماع صحابہ کی روشنی میں جو احکام میراث مدون کئے ہیں اس کو ’’فرائض‘‘ کا عنوان دیا ہے۔فقہ و فتاوی کی تمام کتب میں احکام میراث کو بڑے ہی شرح و بسط کے ساتھ’’علم الفرائض‘‘ کے عنوان سے جمع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواص و عوام کی اس باب میں ضروری رہبری کیلئے کئی ایک کتب شارحین امت نے لکھی ہیں۔ اس فن شریف کی بڑی تحقیق و تفصیل ان کتب میں ملتی ہے۔ لیکن ان کتب میں حضرت امام سراج الدین محمد بن محمد عبدالرشید السجاوندی رحمہ اللہ کی تالیف ’’ الفرائض السراجیہ‘‘ جو سراجی کے نام سے مشہور ہے کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، دینی جامعات و مدارس میں یہ کتاب شریک نصاب ہے۔اس کتاب کی کئی ایک شروحات عربی زبان میں لکھی گئی ہیں، ’’کشف الظنون‘‘ میں تقریبا اس کی چوبیس شروحات کا ذکر ملتا ہے ان شروحات میں ، ’’ شریفیہ‘‘ کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی، علماء و اساتذہ آج بھی اس سے استفادہ کر تے ہیں۔’’سراجی‘‘ کی ار دو شروحات بھی لکھی گئی ہیں اور بعض علماء نے عام فہم انداز میں مختصر کتب اس فن شریف میں مرتب کی ہیں علم ایک سمندر ہے، کسی بھی علم و فن میں لکھی جانے والی کوئی تحریر کو حرف آخر نہیں کہا جا سکتا ۔ بات کو پیش کر نے کا ڈھنگ تحریر کا انداز ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر لکھنے والے کی تحریر میں کو ئی نہ کوئی ندرت ہوتی ہے جو اس کو دوسروں سے ممتاز کر تی ہے ،خاص طور پر اسی فن کی کتاب کو اپنے تجربات کی روشنی میں تسہیل کے ساتھ پیش کرنے سے اس فن سے استفادہ آسان ہوجاتا ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ دور جاہلیت میں اہل حق کو ان کے مالی حقوق سے محروم کیا جاتا تھا وراثت میں مورثین کو کچھ نہیں دیا جاتا تھا، اس ظالمانہ رسم و رواج کو اسلام نے ختم کیا لیکن اسلام کے علمبردار عام مسلمان بلکہ بعض خواص بھی احکام میراث پر عمل سے گریز کئے ہوئے ہیں اوردور جاہلیت میں روارکھے جانے والے ظلم وجور کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ علم الفرائض کو سیکھا اور سکھایا جائے اور اس پر عمل کر نے کو یقینی بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT