Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / ورجینیا میں قوم پرستوں کا جلوس ‘ نسلی تشدد

ورجینیا میں قوم پرستوں کا جلوس ‘ نسلی تشدد

Birgunj : Nepalese men carry children on their shoulders as they wade through flood waters in village Ramgadhwa in Birgunj, Nepal, Sunday, Aug. 13, 2017. An official said torrential rain, landslides and flooding have killed dozens of people in Nepal over the past three days, washing away hundreds of homes and damaging roads and bridges across the Himalayan country. AP/PTI Photo(AP8_13_2017_000110B)

3سفید فام قوم پرست ہلاک ‘ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں واقعہ کی سخت مذمت
واشنگٹن ۔ 13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) سینکڑوں سفید فام خود کو برتر سمجھنے والے قوم پرستوں کا ایک احتجاجی مظاہرہ ایک ہجوم میں کار کے زبردستی گھسا دینے کے خلاف منعقد کیا گیا ۔ علاوہ ازیں ایک امریکی پولیس کا ہیلی کاپٹر بھی حادثہ کا شکار ہوگیا تھا جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دیگر 19زخمی ہوگئے ۔ یہ واقعہ امریکی ریاست ورجینیا میں پیش آیا ۔ ایک 32سالہ خاتون کار کے ایک عوام کے ہجوم میں جو پُرامن طور پر احتجاجی جلوس نکال رہا تھا گھس جانے سے ہلاک ہوگئی ۔ مہلوکین میں دو پولیس عہدیدار بھی شامل تھے جو ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہوئے جو احتجاج کے مقام سے قریب شارلٹس ویلے ورجینیا میں پیش آیا ۔ کار کا 20سالہ ڈرائیور گرفتار کیا جاچکا ہے اور اس پر قتل کا مقدمہ جاری ہے ۔ آج تشدد اُس وقت پھوٹ پڑا جب ’’ دائیں بازو کو متحد کرو‘‘ کے نعرے پر سفید فام برتری پسند افراد جلوس نکالنے والے تھے ۔ اس جلوس کا منصوبہ وفاق کے حامی جنرل رابرٹ ای لی کے مجسمہ کو کالج ٹاؤن شارلٹس ویلے سے علحدہ کرنا تھا ۔ یہ قصبہ ورجینیا سے 256کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ جھڑپوں کے بعد عہدیداروں نے ہنگامی حالات نافذ کرنے کا اعلان کردیا ۔ پولیس اور فوج انسداد فسادات لباس میں تعینات کردی گئی ۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس واقعہ کو ایک ہولناک واقعہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے جو فی الحال نیوجرسی میں گرمائی تعطیلات گذار رہے ہیں ۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اس واقعہ کی ممکنہ حد تک سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ یہ نفرت ‘ تعصب اور تشدد کا دونوں فریقین کی جانب سے گھناؤنا مظاہرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ہمارے ملک پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ بارک اوباما نہیں ہے ۔ اس کے دورس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ امریکہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اباہم بات یہ ہے کہ تیزی سے نظم و ضبط بحال کیا جائے اور بے قصور افراد کی زندگیوں کا تحفظ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنے تحفظ اور سماج میں صیانت کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیئے ۔ کسی بھی بچے کوباہر جانے اور کھیلنے یا اپنے والدین کے ساتھ جانے کیلئے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے ‘ اسے خوشگوار وقت گذارنا چاہیئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT