Saturday , September 22 2018
Home / کھیل کی خبریں / ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا آج آغاز ۔ ہندوستان کو کٹھن سفر کا سامنا

ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا آج آغاز ۔ ہندوستان کو کٹھن سفر کا سامنا

میرپور (بنگلہ دیش) ، 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ چند ماہ کی زوال پذیری کو روکنے کی اپنی کوشش میں مشکلات سے دوچار ہندوستان مہیندر سنگھ دھونی کی قیادت میں کھویا وقار بحال کرنے کوشاں ہوگا جب وہ اپنی مہم آئی سی سی ورلڈ T20 میں شروع کریں گے جس کا آغاز اتوار کو ہو رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا اور پاکستان کے پاس قابلیتیں موجود ہیں کہ انھیں طاقتور دع

میرپور (بنگلہ دیش) ، 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ چند ماہ کی زوال پذیری کو روکنے کی اپنی کوشش میں مشکلات سے دوچار ہندوستان مہیندر سنگھ دھونی کی قیادت میں کھویا وقار بحال کرنے کوشاں ہوگا جب وہ اپنی مہم آئی سی سی ورلڈ T20 میں شروع کریں گے جس کا آغاز اتوار کو ہو رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا اور پاکستان کے پاس قابلیتیں موجود ہیں کہ انھیں طاقتور دعوے دار قرار دیا جائے۔ موجودہ فام کے اعتبار سے ہندوستان جو 2007ء کے افتتاحی ایڈیشن کے چمپینس ہیں، بلاشبہ اس ٹورنمنٹ کو جیتنے کیلئے پسندیدہ ٹیم نہیں ہے۔ پاکستان اور متوازن آسٹریلیائی ٹیم اعلیٰ اعزازات کیلئے سنجیدہ کوشش کریں گے ، جو تین ہفتے کا بڑا کٹھن ٹورنمنٹ ثابت ہونے کی توقع ہے۔ ڈیفنڈنگ چمپینس ویسٹ انڈیز یہ ثابت کرنا چاہیں گے کہ 2012ء میں ان کی فتح کوئی اتفاقی نہیں ہوئی جبکہ سری لنکا تیسری مرتبہ خوش قسمت ہونا چاہیں گے جیسا کہ وہ 2009ء اور 2012ء میں دو فائنلس ہار چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ اپنے نئے سنسنی خیز کھلاڑی کوری اینڈرسن کے ساتھ یہی چاہیں گے کہ کسی بڑی ٹروفی کے معاملے میں اپنی بدبختی کو آخرکار دور کرلیں،

جو ایسی بات ہے کہ جنوبی افریقہ بھی اے بی ڈی ولیرس کی قیادت میں یہی مقصد رکھے گا۔ ہندوستان نے آخری بار ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل زائد از پانچ ماہ قبل کھیلا تھا اور وہ میچ آسٹریلیا کے خلاف چھ وکٹس سے جیتا جس میں یوراج سنگھ نے دھماکو مظاہرہ پیش کیا تھا۔ راجکوٹ کی وکٹ پر اُس مخصوص میچ کے بعد سے بہت کچھ بدل چکا ہے جس میں انڈین ٹیم کا پرفارمنس بد سے بدتر ہوگیا۔ T20 مختلف فارمٹ ہے لیکن نیوزی لینڈ میں ٹسٹ میچوں اور او ڈی آئی سیریز دونوں میں واضح شکست کھانا حوصلہ شکن ہے۔ ابتر بات یہ ہے کہ وہ ایشیا کپ فائنل کیلئے کوالیفائی تک نہ ہوسکے جہاں انھیں پاکستان اور سری لنکا دونوں نے ہرایا۔ 2014ء میں ڈھائی ماہ گزر چکے ہیں، ہندوستان نے صرف دو انٹرنیشنل کامیابیاں کمزور ٹیموں بنگلہ دیش اور افغانستان کے خلاف درج کرائیں، جو کسی ٹیم کو فخر دلانے والا ریکارڈ نہیں ہے۔ اس پس منظر میں ہندوستان اپنی ورلڈ ٹی 20 مہم شروع کرے گا، جو ایسا ٹورنمنٹ ہے جہاں وہ گزشتہ تین ایڈیشنس منعقدہ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا میں سیمی فائنلس تک رسائی میں ناکام رہے ہیں۔

اس ٹورنمنٹ میں کوئی آسان مسابقت نہیں ہوگی کیونکہ ہندوستان کو ہمیشہ خطرہ بننے والے پاکستان، طاقتور آسٹریلیا اور ڈیفنڈنگ چمپینس ویسٹ انڈیز کا اپنے گروپ میں کسی کوالیفائر کے ساتھ سامنا رہے گا جو ابتدائی گروپ لیگ میچز کے بعد شامل ہوجائے گا۔ ہندوستان اپنے تمام مقابلے میرپور کے شیرِ بنگلہ اسٹیڈیم میں کھیلے گا جہاں ہندوستان نے ماضی قریب میں زیادہ میچز ہارے ہیں جیسا کہ حالیہ ایشیا کپ واضح مثال ہے۔ کپتان دھونی اپنے پکھوے کی تکلیف سے بحالی کے بعد ٹیم کی صف میں ویٹرن یوراج سنگھ اور سریش رائنا کے ساتھ واپس ہوں گے، جن کی اسکواڈ میں واپسی ہو رہی ہے۔ جہاں ہندوستان استقلال سے عاری پرفارمنس کو دور کرنے کوشاں ہے، وہیں 2009ء ایڈیشن کے چمپینس پاکستان کو محمد حفیظ کی کپتانی میں اچھے مظاہرے کی امید ہوگی۔

شاہد آفریدی کے چڈھے کی انجری باعث تشویش ہے لیکن سینئر ترین کھلاڑی اس وقت تک فٹ ہوجانے کی توقع ہے جب پاکستان اپنی مہم ہندوستان کے خلاف شروع کرے گا۔ اتوار 16 مارچ سے جمعہ 21 مارچ تک ابتدائی 12 مقابلے آٹھ کمزور ٹیموں کے درمیان کوالیفائنگ گروپ میچز ہوں گے جو پہلا راؤنڈ کہلائے گا جس کے اختتام پر گروپ A اور گروپ B کی دو ٹاپ ٹیموں کو سرکردہ آٹھ ٹیموں …سری لنکا، ویسٹ انڈیز، ہندوستان، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، پاکستان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ… کے ساتھ دوسرے راؤنڈ میں مسابقت کا موقع ملے گا۔ گروپ 1 اور گروپ 2 میں پانچ، پانچ ٹیموں کے ساتھ دوسرا راؤنڈ جمعہ 21 مارچ سے منگل یکم اپریل تک چلے گا۔ دونوں گروپ سے دو، دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان جمعرات 3 اپریل اور جمعہ 4 اپریل کو دو سیمی فائنلس کھیلے جائیں گے اور اتوار 6 اپریل کو فائنل مقرر ہے۔

TOPPOPULARRECENT